خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 67

42۔ہے یا شراب پی لیتا ہے اور اس طرح اپنا غم غلط کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی قوتوں میں ایک تعطل واقع ہو جاتا ہے۔اور گو اس کو وہ تکلیف ایک وقت تک کے لئے بھول جاتی ہے لیکن جب وہ ہوش میں آتا ہے تو پہلے سے بھی زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور دوسرا شخص جو اپنی تکلیف یوں بھلانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اپنے رنج و غم اور دکھ کو جو اس کو کسی نقصان کے ذریعہ پہنچا ہو دور کرنے کیلئے محنت شاقہ برداشت کرتا ہے اور اُس نقصان کو پورا کر لیتا ہے ان دونوں کی حالتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور حقیقی آرام اور سکھ اسی کو حاصل ہوتا ہے جو تکلیفوں کو دور کرنے کی سعی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ اگر تم کو رنج پہنچے تو اس کو بھلا دینے کی کوشش کرو بلکہ یہ کہتا ہے کہ محنت کے ذریعہ اس کی تلافی کرو۔اسلام یہ نہیں جائز رکھتا کہ اگر تم پر قرض ہے تو اس کے غم کو بھلانے کے لئے شراب پیو بلکہ یہ کہتا ہے کہ محنت کرو اور کوشش اور سعی کر کے خوشی حاصل کرو۔چنانچہ دونوں عیدوں میں محنت رکھی گئی ہے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِى عِبَادِى وَادْخُلِي جَنَّتِنہ یہ وہ عید ہے جس کی طرف مومن کے لئے اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی ایسا دن جس میں وہ نفسِ مطمئنہ ہو جائے۔اس کی اضطرابی حالت اطمینان سے بدل جائے۔یہ ہے اصل عید کا دن جس کے آنے کی انسان کو خواہش کرنی چاہئے اور یہ وہ دن ہے کہ جب آتا ہے تو پھر جاتا نہیں۔مطمئنہ حالت سے یہ مراد نہیں کہ حرکت بند ہو جائے کیونکہ حرکت سے ہی تو انسان ترقی کرتا ہے۔عام طور پر لوگوں نے حرکت کے نہ ہونے کا نام اطمینان رکھا ہوا ہے حالانکہ حرکت نہ ہونے اور اطمینان میں بہت بڑا فرق ہے۔اطمینان اس حرکت کو کہتے ہیں جس میں تزلزل نہ ہو۔ورنہ یوں تو حرکت کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا اور حرکت سے ہی ترقی ہوتی ہے۔دیکھ لو رسول کریم میں لیاری کے لئے ہر روز دعائیں کی جاتی ہیں اور دم بہ دم روحانی مدارج میں ترقی کر رہے ہیں یہ آپ کی حرکت ہے لیکن اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کو اطمینان نہیں۔پس اطمینان وہ حالت ہے جس میں اضطراب و تزلزل نہ ہو۔اور یہ وہ حرکت ہوتی ہے جو آگے کی طرف بڑھاتی ہے لیکن اطمینان کے بغیر جو حرکت ہوتی ہے وہ نیچے کی طرف گراتی ہے۔دیکھو جب چلنے والے کو اطمینان ہوتا ہے تو وہ عمدگی سے چلا جاتا ہے لیکن جب اسے اطمینان نہ ہو تو اس کے قدم