خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 58

۵۸ نہیں کرتے۔جان جائے مگر نافرمانی نہیں کرتے۔حتی کہ بعض اوقات صریح غلط اور تباہ کن احکام کی بھی تعمیل کرنی پڑتی ہے مگر سر نہیں پھیرتے۔بے چون و چرا چلے جاتے ہیں۔ورنہ انتظام جاتا ہے۔تمام کی تمام فوج تباہ ہوتی ہے۔دیکھو کبھی بھی کوئی ایسی لڑائی نہیں لڑی گئی جس میں تمام جرنیلوں کا اتفاق رائے ہو یعنی طرز جنگ وغیرہ میں۔مگر ایک دوسرے کی بات پر اپنی رائے اور تجربہ کو قربان کرتا ہے اور جہاں اس کے خلاف ہوتا ہے ہلاکت اور تباہی وہیں اپنا دامن دراز کر دیتی ہے۔موجودہ جنگ ۸ میں اس امر کی ایک تازہ مثال موجود ہے۔روس کے ملک میں سامان جنگ کافی موجود تھا۔آدمیوں کی کمی نہ تھی۔مگر پھر جرمنی کے مقابلہ میں اسے شکست ہوئی۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کے افسروں اور سپاہیوں میں قربانی کا مادہ موجود نہ تھا۔ہر شخص اپنے پ کو بڑا خیال کرتا تھا اور اپنی ذاتی رائے کو قربان کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔چنانچہ مسٹر کرنکی که جو روسی حکومت کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں انہوں نے ابھی حال میں ایک تقریر میں بیان کیا ہے کہ گولہ بارود اس وقت ہمارے پاس اس قدر موجود تھا کہ اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھا اور سپاہی اس قدر موجود تھے لیکن ایک چیز نہ تھی اور وہ انتظام ہے۔نہ کوئی شخص دوسرے کی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔فطرت انسانی میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ حقیقی خطرے کے وقت انسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے۔مثلاً کسی کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہو اور لوگ اس کے بجھانے میں مشغول ہوں تو اس وقت اگر ایک بوڑھا بھی گھر کے مالک کو اس آگ کے بجھانے کے متعلق حکم دینے لگے تو اس کے قبول کرنے میں وہ مذر نہیں کرتا۔اس وقت افسری اور ماتحتی کا خیال نہیں رہتا۔اب اگر اسلام کے خطرے کو لوگ اپنا خطرہ خیال کرتے ہیں تو کیوں اپنے تمام جذبات اس کی کامیابی کے لئے قربان کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور خاموش اور غافل ہیں۔یہ امر دو باتوں سے خالی نہیں۔یا تو اس خطرہ کو جہالت کی وجہ سے اپنا خطرہ نہیں سمجھتے یا نعوذ باللہ اسلام کو سچا نہیں یقین کرتے ورنہ مسلمان اسلام سے جدا نہیں ہیں۔اسلام اگر ترقی نہ کرے گا تو مسلمان زیادہ سے زیادہ ذلیل ہوں گے۔پس اسلام کی عزت در حقیقت مسلمانوں کی عزت اور اسلام کی ترقی در حقیقت ان کی ترقی ہے۔معلوم ہوتا ہے مسلمان اسلام کے خطرے کو اپنا خطرہ نہیں سمجھتے۔اور اسلام کی نکبت کو اپنی نکبت یقین نہیں کرتے۔ورنہ ان کی تو وہ مثال ہے کہ کوئی شخص اپنا پاؤں آپ کلہاڑی سے کائے۔اسلام اگر ترقی نہیں کرے گا