خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 500

۔۔فَاخْرِصُ عَلَى عَمَلٍ تَكُونُ إِذَا بَكَوْا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكًا مَسْرُورًا ان یعنی اے انسان تیری ماں نے جب تجھے جنا تھا تو تو اس وقت رو رہا تھا اور لوگ تیرے اردگرد خوشی سے ہنس رہے تھے کہ ہمارے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔اب تو اس کا بدلہ لوگوں سے اس طرح لے کہ ایسے نیک اعمال بجالانے کی کوشش کر کہ جب تو مرے تو لوگ تو تیرے ارد گرد رو رہے ہوں اور تو ہنس رہا ہو کہ میں خدا تعالی کے پاس اس سے انعامات لینے کے لئے جا رہا ہوں۔پس مومن کی حقیقی عید در حقیقت اس کی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔میری طبیعت بیماری کی وجہ سے تو پہلے ہی ناساز تھی لیکن میں چلنے پھرنے لگ گیا تھا۔سال مری کی سخت پہاڑیوں پر بھی میں دو دو میل چل لیتا تھا۔جابہ میں بھی دو دو میل چل لیتا تھا مگر ایک حادثہ کی وجہ سے مجھے ایسی درد شروع ہو گئی ہے کہ وہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔پہلے تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ میں ایک قدم بھی نہیں چل سکتا تھا لیکن اب کمرہ میں میں نے چند قدم چل لیتا ہوں۔ڈاکٹروں نے بڑی تاکید کی تھی کہ مجھے کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہئے۔بیماری کی وجہ سے عید میں شمولیت کا بوجھ بھی میرے لئے پریشانی کا موجب رہا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عید کے گزارنے کے بعد وہ صحت میں جلد جلد ترقی عطا فرمائے تاکہ میں سلسلہ کا کوئی کام کر سکوں۔خالی پڑے ہوئے انسان کی مثال تو بالکل مردہ کی سی ہوتی ہے جیسے مردہ کوئی کام نہیں کرتا اسی طرح وہ بھی کوئی کام نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی یہ توفیق ہے۔آخر تفسیر صغیر ۳۔میں نے بیماری کے دنوں میں ہی لکھی ہے مگر اب نقرس اور وجع المفاصل کی وجہ سے ایسی حالت ہو گئی ہے کہ میں ایک سطر بھی نہیں لکھ سکتا۔میں نے تجربہ کیا ہے اور پہلے بھی کئی بار بیان کر چکا ہوں کہ جن دنوں دوست خاص طور پر دعائیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فضل نازل کر دیتا ہے اور طبیعت میں دلیری اور اُمنگ پیدا ہو جاتی ہے اور بیماری میں بھی کمی آجاتی ہے۔رمضان میں اخبار میں تو چھپتا رہا ہے کہ دوست دعا کر رہے ہیں لیکن ابھی تک بیماری میں پوری طرح کمی واقع نہیں ہوئی۔ممکن ہے دعا قبول ہونے میں کچھ وقت لگے آخر بچہ پیدا ہونے میں بھی نو ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ممکن ہے ان دعاؤں کی قبولیت میں بھی کچھ وقت لگے اور پھر اللہ تعالٰی کے فضل سے مجھے صحت ہو جائے اور یہ کیفیت دور ہو جائے۔