خطبات محمود (جلد 1) — Page 50
(<) (فرمودہ اا۔جولائی ۱۹۱۸ء بمقام ڈلہوزی) سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى وَالَّذِي اخْرَجَ الْمَرْعَى فَجَعَلَهُ غُشَاء اَحْوَى سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى وَنُيَسِرُكَ لِلْيُسْرَى فَذَكَّرَانُ نَّفَعَتِ الذِّكْرَى ، سَيَذَكَرُ مَنْ يَخْشَى وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الكبرى ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى قَدْ َافْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبقَى إِنَّ هَذَا لَفِي ! الصُّحُفِ الأولى ) صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسى عید کا لفظ اردو فارسی اور عربی زبان میں خوشی کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہ معنی محاورے کے معنی ہیں۔در حقیقت عید کا لفظ عود سے نکلا ہے اور عود کے معنی دوبارہ واپس آنے اور بار بار آنے والی چیز کے ہیں۔کہ خوشی کے لئے یہ لفظ اس وجہ سے استعمال ہوتا ہے کہ خوشی ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے واسطے بار بار آنے کی خواہش ہوتی ہے۔۳۔دکھ مصیبت اور رنج و غم کوئی نہیں چاہتا کہ آدیں اور بار بار آویں۔کوئی نہیں چاہتا کہ موت جدائی نقصان اور گھاٹا آوے بلکہ چاہتے ہیں کہ لڑکے پیدا ہوں، تجارتوں میں فائدے ہوں، دوستوں اور عزیزوں کی ملاقاتیں ہوں ، دشمن سے نجات ہو اسی واسطے محاورے میں خوشی کے لئے ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس میں بار بار آنے کے معنے پائے جاتے ہیں۔اس لفظ میں ایک اور بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ کھوئی ہوئی چیز کے واپس آنے میں جو خوشی ہوتی ہے وہ دوسری چیزوں میں نہیں ہوتی۔مثلاً کسی شخص کے گھر میں لاکھ روپیہ موجود ہے۔اس کی موجودگی کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوگی جیسا کہ اس کی جیب سے ایک دس روپیہ کے گم شدہ نوٹ کے دوبارہ مل جانے کی خوشی ہوگی۔اسی طرح ہر وقت پاس رہنے والے عزیزوں اور دوستوں کی ملاقات کوئی ایسی خاص خوشی پیدا نہیں کرے گی جیسا کہ ایک مدت کے