خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 491

۴۹۱ ہمیش کے لئے عید بنائے۔ اولادوں کی بات تو بہت دور کی ہے ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ سال ختم بھی نہ ہونے پائے اور ہمارے لئے کچی عید آ جائے کیونکہ آج سے ۵۰-۶۰ سال کے بعد دیکھنا بوڑھوں کو کب نصیب ہو گا۔ یوں تو جوان آدمی کے لئے بھی ایک دن زندہ رہنے کی امید نہیں ہوتی لیکن بہر حال اس کی عمر کو دیکھ کر خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ اتنا عرصہ زندہ رہ سکے گا مگر بوڑھا آدمی تو پانچ دس سال زندہ رہنے کی بھی امید نہیں کر سکتا۔ پس ہمیں تو چاہئے کہ دعائیں کریں کہ خدا ہمیں ایسی عید نصیب کرے کہ ابھی یہ دن بھی ختم نہ ہو کہ ہمارے لئے کچی عید آجائے اور اسلام کی فتح کی خبریں ہمیں چاروں طرف سے آنے لگ جائیں۔ پس تم دعاؤں میں لگے رہو تا وہ عید جو بچی اور حقیقی عید ہے ہمارے قریب آ جائے۔ اب کی دفعہ خدا تعالیٰ نے دو عیدوں کو جمع کر دیا ہے۔ آج بھی عید ہے اور کل جمعہ ہے جو مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے وہ گویا دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں۔ خدا تعالیٰ ان دو ظاہری عیدوں کے ساتھ باطنی عید بھی ملا دے تو اس کے فضل سے یہ کوئی بعید بات نہیں۔ الفضل ۸ مئی ۱۹۵۷ء) لے ڈاکٹر محمد عبد الحق صاحب ولد کرم علی صاحب ۱۸۹۸ء بیعت ۱۹۲۵ء حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ۱۸۶۸ء ۔ ۱۹۵۲ء ۔ رخصتانه ۱۸۸۴ء سرگودھا۔ راولپنڈی روڈ پر خوشاب سے قریباً ۴۰ میل پر ایک گاؤں ہے یہاں حضور نے گاؤں سے ہٹ کر ایک بستی آباد کی جس کا نام نخلہ رکھا۔ انت الذي ولدتک امک باكيا والناس حولك يضحكون سرورا فاحرص على عمل تكون اذا بكوا فی وقت موتک ضاحكا مسرورا (مجانی الادب ۳ بحوالہ دروس الادب صفحه ۹۰) ه سنن ابي داود باب اذا وافق يوم الجمعة يوم عيد -