خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 484

i لذي له لگے تم نے ہمارے ساتھ دھو کا کیا ہے۔ ملاں نے ہمیں سمجھا دیا ہے کہ جب تک تم ہمارے پیچھے آکر نماز نہ پڑھو تمہاری توبہ پر ہم کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔ وہ کہنے لگا اگر توبہ کے بعد بھی نمازیں ہی پڑھنی ہیں تو یہ تو بہ تو مرزا صاحب 11 بھی بڑی کرایا کرتے تھے۔ میں نے تو سمجھا تھا کہ اب جان بچی۔ ساری عمر یہ مصیبت رہی رہی کہ مرزا صاحب کہتے رہے نہ سینماد سینما دیکھو نہ کنچنیوں کا ناچ دیکھو نہ شراب پیو نہ جوا کھیلو۔ اسی طرح وہ کہتے تھے کہ نمازیں پڑھو، روزے رکا رکھو میں نے تو شکر کیا تھا کہ ان چیزوں سے نجات ملی اب سینما دیکھیں گے، کنچنیاں نچوائیں گے، شرابیں پیئیں گے اور خوب عیش کریں گے تم نے تو پھر کہنا شروع کر دیا ہے کہ نماز پڑھو اگر نماز ہی پڑھنی تھی تو یہ نماز تو مرزا صاحب بھی پڑھوایا کرتے تھے۔ اس پر وہ شور مچاتے ہوئے واپس چلے گئے کہ مرزائی بڑے شرارتی ہوتے ہیں۔ پس اپنے اندر حقیقی ایمان پیدا کرو۔ اگر تم اپنے اندر سچا ایمان پیدا کر لو اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرو تو صرف تم کو ہی نہیں بلکہ تمہاری نسلوں کو بھی عید الفطر نصیب ہوگی۔ اور جب تم بھی اسلام پر قائم ہو جاؤ گے اور تمہاری نسلیں بھی ایمان کے اعلیٰ مقام پر قائم ہو جائیں گی اور باقی مسلمان بھی اسلام پر عمل کرنا اپنا دستور بنالیں گے تو اسلامی کانسٹی ٹیوشن خود بخود قائم ہو جائے گی لیکن اگر مسلمان اسلام پر عمل نہ کریں، وہ نمازیں نہ پڑھیں ، وہ روزے نہ رکھیں، وہ حج نہ کریں، وہ زکوۃ نہ دیں، وہ ہر قسم کی مناہی کا ارتکاب کریں اور ساتھ ہی اسلامی کانسٹی ٹیوشن کا بھی شور مچاتے چلے جائیں تو یہ ایک بے معنی بات ہوگی۔ جب پاکستان کا قیام ہوا تو میں نے کوئٹہ میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہ مسلمانوں سے یہی کہا تھا کہ تم اسلامی کانسٹی ٹیوشن کا شور مچانے کی بجائے یہ سوچو کہ تمہارے اندر اسلام پر کہاں تک عمل پایا جاتا ہے۔ اگر تم اسلام پر عمل نہیں کرتے تو تمہاری مثال ان اینٹوں کی سی ہے جو کچی ہیں اور کچی اینٹوں سے بنا ہوا مکان کبھی پکا نہیں ہو سکتا وہ بہرحال کچا ہی ہو گا کیونکہ اینٹیں کچھی ہوں گی۔ جس طرح کچی اینٹوں سے بنا ہوا امکان پکا نہیں ہو سکتا اسی طرح اگر افراد کا عمل اسلام پر نہ ہو تو ان کا مجموعہ بھی غیر اسلامی ہو گا لیکن اگر افراد پکے مسلمان بن جائیں اور وہی اسمبلی میں جائیں تو ان کے ذریعہ جو کانسٹی ٹیوشن بنے گی اُسے ان اسلامک قرار نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ پکے مسلمان اس کے ممبر ہونگے۔ پس سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے اندر تغیر پیدا کریں اور اسلامی احکام پر عمل کریں مگر اُس وقت میری بات کو نہ سنا گیا اب