خطبات محمود (جلد 1) — Page 470
چھ سو گنا مزید گر گئی تو مجھے تحریک کرنے والوں نے کہا کہ اب ہم کیا کریں؟ میں نے کہا اب کیا ہو سکتا ہے آپ لوگوں نے ہی تحریک کر کے روپیہ ضائع کیا ہے۔چنانچہ کچھ دنوں کے بعد وہ واقعہ میں اپنے روپے کو رو دھو کے بیٹھ گئے۔ہم نے یہ رو پید ایک بڑے بنک میں جمع کرایا تھا کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ جب لاکھوں روپیہ ملے گا تو چھوٹا بنک اس کی ادائیگی نہیں کر سکے گا۔بعد میں میں نے بنک کو لکھا کہ میں نے فلاں وقت اتنار و پیہ جمع کرایا تھا چاہے اس کی قیمت بہت زیادہ گر گئی ہے لیکن تاہم اس کی کچھ نہ کچھ قیمت تو ہوگی۔آپ تحریر کریں ، اب اس روپے کے کتنے پاؤنڈ مل سکتے ہیں۔بنک کا مینجر کوئی بانداق آدمی تھا اس نے مجھے جواب لکھا کہ آپ کا روپیہ ہمارے بنک میں جمع تھا لیکن اب اس کی کوئی قیمت نہیں بلکہ اس خط پر جو ٹکٹ لگا ہے وہ بھی اس روپیہ سے کئی گنا زیادہ قیمتی ہے گویا اس روپیہ کی قیمت ایک دمڑی سے بھی کم رہ گئی تھی۔اب اگر جرمنی والے کہتے کہ امریکہ اگر اپنے مزدور کو ساٹھ پونڈ دیتا ہے تو ہم اپنے مزدور کو ایک لاکھ یا دو لاکھ مارک دیتے ہیں تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے کہ وہ اپنے مزدور کو بارہ تیرہ روپے ماہوار دیتے ہیں۔یہی حال روس کا ہے وہ اپنے مزدور کو امریکہ سے کئی گنا کم دیتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم نے ملک میں مزدور کا درجہ بلند کر دیا ہے ہم اسے پچاس ہزار سے کم نہیں دیتے حالانکہ اس کے معنی صرف پچاس ساٹھ روپیہ کے ہوتے ہیں۔پس یہ شکل دیکھ کر کہہ دینا کہ ہم نے ملک والوں کو عید کا موقع بہم پہنچایا ہے اور چیز ہے ورنہ حقیقی عید روس بھی نہیں دے گا۔یہاں آنے والوں کی حالت بے شک اچھی نظر آتی ہے اگر کوئی روسی اس طرف آئے تو اسے دیکھ کر لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ان کے ملک میں مزدور کی حالت نہایت اچھی ہے۔لیکن حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے۔ملک عمر علی صاحب ۸ کو اگر توفیق مل جائے تو انہیں تبلیغ کا بہت شوق ہے ایک دفعہ وہ سندھ کے سفر پر میرے ساتھ گئے۔ہم تو سیکنڈ کلاس کے ڈبہ میں سوار ہوئے لیکن ملک عمر علی صاحب اپنی ریاست کے خیال سے فرسٹ اور ایئر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں سوار ہوئے ایک روسی بھی اس کمپارٹمنٹ میں سوار تھا۔اس سے ان کی گفتگو ہوئی گاڑی کسی اسٹیشن پر ٹھری تو ملک صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے ایک روسی دوست میرے ہم سفر ہیں میں نے ان سے گفتگو کی ہے وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں آپ کے پاس لے آؤں۔میں نے کہا ممکن ہے اس میں کوئی سنجیدگی نہ ہو۔ملک صاحب نے کہا نہیں وہ بہت سنجیدہ انسان ہیں۔میں نے کہا یہ غلط ہے اگر وہ