خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 454

۴۵۴ گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ملازمین کو عید سے پہلے تنخواہیں دے دی جائیں۔صدرانجمن احمدیہ نے بھی اس ضرورت کو محسوس کیا اور اس نے بھی فیصلہ کیا کہ عید سے پہلے تنخواہیں مل جانی چاہئیں۔میرے پاس کاغذات آئے تو میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے بشرطیکہ خزانہ میں روپیہ موجود ہو لیکن خزانہ میں روپیہ نہیں تھا۔محاسب صاحب کی رپورٹ تھی کہ میرے پاس چند سو سے زائد روپیہ نہیں اور فرض کرد تنخواہیں عید سے پہلے نہ بھی دینی ہوتیں تب بھی مہینہ میں سے کتنے دن باقی رہ گئے ہیں صرف سات دن باقی رہ گئے ہیں ان سات دنوں میں بھلا کتنا روپیہ آسکتا ہے کہ اس سے اگلے مہینہ کے شروع میں بھی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ عید نے محض ہماری ہے آنکھیں کھولی ہیں ورنہ ہم مہینہ کے آخر میں بھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ کارکنوں کو ان کا پانچواں یا چھٹا حصہ بھی گزارہ دے سکیں۔اگر اس ماہ میں یہ حالت ہے تو اگلے ماہ کے متعلق ہم : کس طرح قیاس کر سکتے ہیں کہ اس میں یہ حالت نہ ہو گی۔محاسب صاحب کہتے ہیں کہ چندے نہیں آئے اور ناظر صاحب بیت المال کہتے ہیں کہ چندے آئے ہیں اور تمام تر خرابی محاسب کی طرف سے ہے۔ناظر صاحب کا دعوی ہے کہ پچھلے سال اس ماہ میں جتنا روپیہ آیا تھا اس سے پانچ ہزار روپیہ زیادہ اس ماہ میں آیا ہے۔اگر پچھلے سال اس ماہ تنخواہیں ادا ہو گئی تھیں تو اس سال کیوں ادا نہیں کی جا سکتیں۔محاسب صاحب کہتے ہیں خزانہ موجود ہے اور رجسٹرات بھی موجود ہیں میں روپے گھر تو نہیں لے گیا جو رقوم آئی ہیں رجسٹر میں درج ہیں ان کو دیکھ لو۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ جب کارکنوں کی تنخواہیں ہی پیچھے پڑگئی ہیں تو ہمارے لئے کونسی عید ہے۔اگر ہمارے اندر قومی جذبہ پایا جاتا ہے تو ہماری عید عید نہیں لیکن اگر ہمارے اندر انفرادی جذ بہ پایا جاتا ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے اگر یہاں گزارہ نہیں ہو گا تو کہیں با ہر نوکری کر لیں گے لیکن اگر ہم ایک منظم سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو ہماری عید کوئی عید نہیں۔سلسلہ اب ایسی حالت پر پہنچ گیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو گزارہ دینے کے بھی قابل نہیں رہا اور ہر شخص جس کے دل میں درد ہے اور وہ فردی ضرورتوں کو قومی ضرورتوں پر ترجیح دیتا ہے وہ زندہ نہیں رہا سکتا۔اگر وہ نوکری چھوڑ کر کہیں اور چلا جاتا ہے تو اس کا دین مرجاتا ہے اور اگر یہیں رہتا ہے تو وہ اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔اگر وہ باہر چلا جاتا ہے تو اس کی دینی روح مرجاتی ہے اور اگر یہاں رہتا ہے تو اس کا جسم مرجاتا ہے۔پس یہ حالات ہیں جن میں سے اس وقت ہم