خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 45

کہتا ہے کہ خدا یہ دن روز دکھائے۔یہی حال ہے اس شخص کا جو عید کی حکمت غرض اور غایت کو نہیں جانتا اور رمضان میں اپنے اندر تبدیلی نہیں پیدا کرتا۔خدا کی رضا کی راہوں پر اس نے قدم نہیں مارا مگر عید کے دن خوش ہوتا ہے حالانکہ اس کے لئے عید نہیں بلکہ ماتم ہے۔اس کو تو یہ کہنا چاہئے کہ خدا یہ دن مجھے پھر نہ دکھائے۔نہ کسی اور کو۔لیکن جس نے واقعہ میں رمضان میں اپنے اندر کوئی اچھا تغیر ا کیا ہے، خدا سے صلح کی ہے خدا کی عبادت کی ہے اُس کے لئے عید ہے اور وہ جس قدر بھی خوش ہو اُس کا حق ہے۔ہم دیکھتے ہیں وہ شخص جسے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی خطاب ملتا ہے وہ خوش ہوتا ہے اس کے عزیز و اقارب خوش ہوتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ وہ شخص جسے خدا خطاب دیتا ہے جس کو خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے وہ خوش نہ ہو۔اسے تو بہت زیادہ خوش ہونا چاہئے۔بہت سی عیدیں منانا چاہئے۔ہاں جس نے ایک ذرہ بھی قرب حاصل نہیں کیا اس کے لئے عید نہیں۔جس نے کوئی تغیر پیدا نہیں کیا اس کے لئے بھی عید نہیں۔اس نے اپنے وقت کو ضائع کیا اپنے مال کو بے وجہ خرچ کیا اس کا عید منانا پاگلوں کا سا کام ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ایک ماتم کے وقت یہ کہنے والے کی کہ خدا یہ دن پھر لائے۔پس خوب یاد رکھو کہ یہ دن کوئی دنیاوی خوشی کا دن نہیں۔آج خوشی منانے کے وہی لوگ مستحق ہیں جنہوں نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کی ہے خواہ وہ تبدیلی تھوڑی ہو یا بہت مگر پہلے کی نسبت کچھ نہ کچھ اصلاح کی ہے خواہ وہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔اسلامی عیدیں کیا ہیں؟ ایک جانی قربانی کے بعد ہوتی ہے کہ مہینہ بھر تمام حلال چیزوں کو دن میں ترک کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد شکریہ ادا کیا جاتا ہے کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ ہم تیرے اس حکم کو بجالا سکے۔دوسری عید مالی قربانی کی ہے اس پر مال قربان کیا جاتا ہے۔اسلام کسی ایسی عید کا قائل نہیں جس کے ساتھ کچھ قربانی نہ ہو اور وہ قربانی محض خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو۔اسلام تو عید ابی کو کہتا ہے کہ خدا کی راہ میں مال و جان جو کچھ بھی ہو قربان کر دیا جائے اور اس کے بعد خوشی منائی جاوے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اسی قربانی کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک چیز کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں اور کسی چیز کو بھی خدا کے دین کے مقابلہ میں عزیز نہ رکھیں۔ان کے لئے وہی خوشی کا موقع ہو گا جب کہ ان میں یہ طاقت اور ہمت پیدا ہو جائے گی کہ وہ خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ صرف کرنے کے لئے