خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 433

کہ میری زندگی اسلام کے لئے مفید ہے یا نہیں یہ علم تجھ ہی کو ہے۔ہو سکتا ہے کہ میری بادشاہت مسلمانوں کے لئے مضر ہو۔اس لئے میں آج تجھے اس بزرگ کا واسطہ دے کر جو تجھے پیارا تھا یہ دعا کرتا ہوں کہ اگر میرا وجود اسلام اور تیری مخلوق کے لئے اچھا نہیں تو کل کی لڑائی میں تو مجھے فتح نہ دے بلکہ مجھے موت دے دے تاکہ حقدار کو اس کا حق مل جائے۔گمبن لکھتا ہے کہ ساری دنیا کی تاریخوں کو پڑھ جاؤ تم عیسائیت کے بزرگ ترین بادشاہوں پر نظر دوڑالو تمہیں اس اٹھارہ سالہ کا فر بادشاہ جیسی کوئی ایک مثال بھی نہیں مل سکے گی۔۲۲ یہ چیزان لوگوں کی عید کا موجب تھی۔جس قوم میں ایسے افراد پائے جاتے ہوں جن کو خدا مل گیا ہو جس قوم میں ایسے افراد پائے جاتے ہوں جنہوں نے نہ صرف انفرادی اور روحانی ترقیات حاصل کی ہوں بلکہ قومی ترقیات بھی حاصل کی ہوں اور جس طرف وہ منہ کرتے ہوں کامیابیاں اور فتوحات ان کے قدم چومتی ہوں، جس قوم میں ایسے بلند اخلاق پائے جاتے ہوں کہ ان کے زمانہ میں کسی کو اپنا حق مارے جانے کا خیال بھی پیدا نہ ہو وہ قوم مستحق ہے حقیقی عید منانے کی وہ قوم مستحق ہے حقیقی خوشیاں منانے کی۔کیا دنیا میں اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اس کا جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔محمد رسول اللہ میں لا رہی ہے اس لئے عید مناتے تھے کہ آپ کا محبوب یعنی خدا تعالیٰ آپ کو مل گیا اور مسلمان اس لئے عید مناتے تھے کہ ان کے آقا کی جائیداد انہیں مل گئی اور اس کی حکومت دنیا میں قائم ہو گی لیکن سوال یہ ہے کہ آج ایک مسلمان کیوں عید مناتا ہے۔کیا وہ اس لئے عید مناتا ہے کہ اس کے باپ دادا کی جائیداد ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکل گئی؟ کیا وہ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کی اپنی روحانی جائیداد ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکل گئی کیا وہ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ عدل و انصاف اس میں باقی نہیں رہا آخر وہ کونسی چیز ہے جس پر خوش ہو کر وہ عید مناتا ہے۔کیا وہ نئے کپڑے بدلنے یا طرح طرح کے کھانے کھانے پر خوش ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عید پہلے زمانہ میں انعام تھی لیکن اب تازیانہ ہے اور ہر عید جو آتی ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ بولو تم عید کیوں منا رہے ہم بے شک ظاہر میں عید مناتے ہیں لیکن اس کے موجبات اور محرکات ہم میں موجود نہیں۔ہر مسلمان موت کے بعد کی زندگی کا قائل ہے اور خواہ اس کا پورا یقین ہو یا نہ ہو وہ یہ سمجھتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اور وہاں رسول کریم میں لیا اور یہ بھی بھی