خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 421

۴۲۱ بھی علامت ہوتا اور قومی اخلاق اور قربانیوں کے بھی خلاف ہوتا۔ پس بعض متضاد حقیقتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو حقیقت حال پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایک قسم کے جذبات کا اظہار ہر جگہ پسندیدہ نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک شخص دو سرے سے ناراض ہے وہ اس کے پاس آتا ہے تو وہ بشاشت کے ساتھ اس سے پیش آتا ہے اور اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا اور گو اس کے دل میں ابھی رنج ہوتا ہے مگر اس کے دبانے میں ایک حد تک وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک دوسرا شخص ہوتا ہے جو غصہ بھی نکالتا ہے اور بات بھی کر لیتا ہے۔ اب بظاہر یہ کہا جائے گا کہ دوسرا شخص دل کا زیادہ صاف ہے اور جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے وہ ظاہر کر دیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو دبالینا اور اس میں کامیاب ہو جانا گو بظاہر اندرونی جذبات کے خلاف فعل ہے مگر وہی شخص سچا اور حقیقی مومن کہلائے گا۔ ۲۔ اسی طرح ہر انسان کے لئے عید بھی عید نہیں ہوا کرتی۔ ہزاروں مسلمان ایسے ہوں گے جن کے گھروں میں آج ماتم ہو گیا ہو گا۔ آخر چالیس کروڑ مسلمان ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک کے گھر میں بھی آج موت نہ ہوئی ہو۔ ایسی حالت میں بعض تو اپنے غم کی وجہ سے عید میں کوئی حصہ ہی نہیں لے رہے ہوں گے اور بعض ایسے ہوں گے جو میت کو خدا کے حوالے کر کے عید کی نماز کے لئے چلے گئے ہوں گے ۔ اب بظاہر وہ جو نماز کے لئے چلے گئے انہوں نے منافقت کا اظہار کیا ان کا ظاہر اور تھا اور باطن اور تھا اور جو گھر میں بیٹھے رہے وہ صاف دل اور کھرے تھے لیکن در حقیقت جو لوگ اپنے مردے کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کر کے عید کے لئے چلے گئے وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کر لیا ۔ یہ تو ایک فردی مصیبت کی مثال ہے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں آج لاکھوں مسلمان ایسے ہیں جو دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کا نام اب صرف زبانوں پر رہ گیا ہے اور کفر دنیا پر غالب ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا ان کے دل میں کوئی دکھ پیدا نہیں ہوتا وہ عید کی خوشیاں مناتے ہیں ، کپڑے بدلتے ہیں اور عطر لگاتے ہیں ، صبح کے وقت وہ ملکی رواج کے مطابق سویوں کا ناشتہ بھی کر لیتے ہیں حالانکہ اس وقت اسلام ایسی نازک حالت میں سے گزر رہا ہے جسے دیکھ کر کوئی سچا مسلمان ایک گہرا صدمہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر مسلمان ایک خون ٹپکاتے ہوئے دل کے ساتھ عید کی نماز کے لئے جاتے اگر وہ ایک ٹکڑے ٹکڑے جگر کے ساتھ عید کی نماز پڑھتے تو گو ان کے جذبات متضاد ہوتے مگر حقیقی عید انہی کی ہوتی۔ پس