خطبات محمود (جلد 1) — Page 420
۴۲۰ (۳۸) فرموده ۷۔اگست ۱۹۴۸ء بمقام یا رک ہاؤس۔کوئٹہ ) کہا جاتا ہے کہ انسان متضاد جذبات پیدا نہیں کر سکتا یا کہا جاتا ہے کہ متضاد کیفیتیں منافق کی علامت ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ متضاد جذبات ہر زمانہ میں اور ہر وقت منافقت کی علامت نہیں ہوا کرتے بلکہ بعض دفعہ متضاد جذبات پیش کرنا اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی علامت ہوتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اگر متضاد جذبات پیش نہ کئے جائیں تو یہ انسان کی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔رسول کریم ملا ل ا ل لیلی کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک صحابی کو جہاد پر بھجوایا گیا۔ان کا بچہ سخت بیمار تھا وہ اسے بیمار چھوڑ کر بغیر کوئی عذر کئے جہاد پر چلے گئے جب وہ آپس آئے تو ان کی بیوی نهاد دھو کر ان کے استقبال کے لئے خوشی خوشی بیٹھ گئی۔انہوں نے گھر آتے ہی پوچھا کہ بچے کا کیا حال ہے بیوی نے جواب دیا کہ بچے کو اب بالکل سکون ہے۔پھر اس نے آپ کو کھانا کھلایا اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی۔رات کو جب بستر پر لیٹے تو بیوی نے کہا میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔انہوں نے کہا پوچھو بیوی نے کہا اگر کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھ جائے اور کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنی امانت واپس لینے کے لئے آئے تو کیا اس کی امانت واپس کر دینی چاہئے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا یہ کونسا مسئلہ ہے اگر کسی کی امانت ہے تو اسے ضرور واپس کر دینی چاہئے۔بیوی نے کہا ہمارے پاس بھی بچہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے واپس لے لی ہے اور وہ فوت ہو چکا ہے۔لہ اب دیکھو یہ اس عورت کے ایمان کی کیفیت تھی کہ اس نے اپنے غم کو دبالیا اور اسے ظاہر نہ ہونے دیا۔وہ اپنے دل پر جبر کر کے نہا دھو کر بیٹھ گئی اور اپنے خاوند کو اس نے تسلی دی۔کھانا کھلایا اور یہ نہ بتایا کہ بچہ مرگیا ہے تاکہ اسے زیادہ صدمہ نہ پہنچے اور وہ اس کے نتیجہ میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے اس کا ثواب کم ہو جائے۔یہ جذبہ بظاہر متضاد تھا لیکن حقیقتاً یہی جذبہ اس وقت اس کے ایمان کی حقیقی تصویر تھا۔اگر وہ اپنے اندرونی جذبات کو ظاہر کرتی، روتی اور واویلا کرتی۔تو وہ متضاد جذبات کا اظہار نہ کرتی۔اس کا ظاہر و باطن ایک ہوتا اور پھر اس کا یہ فعل ایمان کی کمزوری کی