خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 418

۴۱۸ والے کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔لیکن اگر شہر میں یہ منادی کی جائے کہ نپولین و کی جوتی لاہور شہر میں لائی گئی ہے تو لوگ جوق در جوق لاہور کی طرف نپولین کی جوتی دیکھنے کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔اب دیکھو وہ ایک جوتی ہوگی اور اس مردہ بکری کا چمڑا انسان کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے جس سے وہ جوتی بنی ہوگی۔اگر وہ چوہڑا علم حاصل کرتا اور ترقیات کے میدان میں دوڑ لگا تا تو ممکن تھا کہ وہ جرنیل بن جاتا یا بادشاہ بن جاتا لیکن اس کے آنے سے تو شہر میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوگی اور نپولین کی جوتی کی خبر سن کر سارے شہر میں اس کے دیکھنے کے لئے شوق پیدا ہو جائے گا۔عام طور پر پرانے قالین دو دو چار روپے کو سکتے ہیں۔لیکن اگر کوئی قالین کسی سابق بادشاہ یا ملکہ کا ہو تو لوگ اسے پچاس پچاس ہزار روپے میں بھی فروخت کر لیتے ہیں بلکہ بعض شوقین تو ایسی چیزوں کو پچاس پچاس لاکھ روپیہ میں بھی خریدنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔انگریزی کے شاعر شیکسپئیر نا کی کتابیں جن کو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا آج چالیس چالیس پچاس پچاس ہزار روپیہ میں فرخت ہوئی ہیں۔بلکہ بعض ہستیاں تو ایسی ہیں کہ جن کے کسی چیز کو چھونے سے ہی حقیر چیزیں اعلیٰ ہو جاتی ہیں۔پس تم یہ مت خیال کرو کہ تم نے کوئی کام کر دیا تو تم بڑے ہو جاؤ گے بلکہ یہ سمجھو کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہمارا خدا ہی ہمارے سب کام کرتا ہے۔یقینا یہ بڑائی کہ تم اپنے کام کا ذکر کر کے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرو اتنی نہیں جتنی یہ بڑائی ہے کہ تم خدا تعالی کی تلوار بن جاؤ۔ہتھیار بے شک ایک بے جان چیز ہے مگر یہ نہ سمجھو کہ ہتھیار بن کر تم بے جان ہو کر گر جاؤ گے۔اگر ایک بادشاہ کی جوتی یا کسی بادشاہ کا قلم یا شیکسپئیر کی کتابیں کچھ حیثیت رکھتی ہیں تو تم سمجھ لو کہ جو شخص خدا تعالی کا ہتھیار بن جائے ، اس کی کیا حیثیت ہوگی۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر اور بڑائی کا خیال چھوڑ دو اور اپنے نفسوں پر ایک موت وارد کر لو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا ہتھیار بنا ہے۔یاد رکھو جب تک تمہارے نفسوں میں تکبر اور نخوت اور خود نمائی کی ذرہ بھی رمق باقی ہے اس وقت تک تمہارے نفس کسی کام کے نہیں ہیں۔اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمارے لئے اپنے فضل کی بارش نازل فرمائے اور ہمارے لئے ساری عیدیں حقیقی معنوں میں عیدیں بن جائیں اور ہر عید ہمارے اندر عاجزی اور فروتنی کی روح پیدا کرنے والی ہو نہ کہ تکبر اور غرور پیدا کرنے والی۔ہم جو بھی کام کریں اس کے متعلق یہ یقین رکھیں کہ یہ خدا تعالیٰ نے کیا ہے ہم تو اس