خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 417

ہے۔مانم کہتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اقرار تم صرف منہ سے کرتے ہو۔منہ سے تو ہر شخص کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر بات یہ ہے کہ جزئیات کے متعلق تمہارے اندر یہ احساس پیدا ہوا کرتا ہے کہ ہم یوں کر دیں گے حالانکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جماعت کی ترقی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔اس طرح تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو بات کرنا چاہتے ہو اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ باللہ آپ کو خدا تعالیٰ نے کھڑا نہیں کیا تھا۔مگر انہیں کیا تھا۔اگر تمہاری بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا قرار دیتا اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے راستباز نبی تھے اور یقینا تھے تو تمہاری بات غلط ثابت ہوتی ہے۔پس تم اپنے آپ کو ایسے مقام پر کیوں کھڑا کرتے ہو جہاں تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ٹکراؤ۔جب تک تمہارے اندر یہ یقین اور وثوق پیدا نہیں ہو جاتا کہ جو کچھ کرتا ہے خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کاموں کو سمر انجام دینا تمہاری طاقت سے بالا ہے اور ہے بھی فی الواقعہ اسی طرح اس وقت تک تم خدا تعالیٰ کی شان اور اس کی برتری کا اقرار نہیں کرتے اور اس کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے اور جب تم خدا تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرت کا سچے دل سے اقرار نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ تمہاری مدد کس طرح کر سکتا ہے۔تم اپنے متعلق صرف یہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں قربانی کا بکرا بنایا ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عید ان بکروں کی وجہ سے ہوتی ہے۔عید بالکل الگ چیز ہے اور بکرے الگ چیز ہیں۔پس تم اپنے دلوں کے اندر یہ یقین رکھو کہ تم صرف قربانی کے بکرے ہو اور جو کچھ ہے وہ تمہارا خدا ہی ہے تم کچھ بھی نہیں۔جس دن تم اس انکسار کے مقام پر کھڑے ہو جاؤ گے اور جس دن تم اعتراف نصرتِ باری کا مقام حاصل کر لوں گے تو گو نصرت الہی اب بھی تمہارے شامل حال ہے مگر اس وقت جو خدا تعالیٰ کی نصرت تمہارے لئے آئے گی وہ اس سے کہیں بالا ہوگی۔پس تم اپنے آپ کو اپنی قدرتوں کا آلہ بنا لو اس وقت ہزاروں اور لاکھوں انسان دنیا میں ایسے ہیں جو چوہڑوں اور چماروں کا کام کرتے ہیں، ہیں تو وہ بھی انسان ہی لیکن ذرا بازاروں میں ڈھونڈورا تو دو کہ فلاں چوہڑ الیل کے سے آیا ہے یا فلاں چوہڑا بسراواں سے آیا ہے۔تو کیا لوگ اس کو دیکھنے لگ جائیں گے۔یا شہر میں کوئی حرکت ان کی آمد سے پیدا ہوگی۔اگر کوئی حرکت شہر میں پیدا ہو گی تو وہ یہ ہوگی کہ لوگ کہیں گے کہ ڈھنڈورا پیٹنے