خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 411

کے گزار دیا ہے اصل حکمت عید کی ان کے ذہنوں میں نہیں آتی۔لیکن ہماری جماعت کے ہر فرد کو سوچنا چاہئے اور اپنے نفس کو ٹولنا چاہئے کہ کیا میرے لئے یہ مواقع حقیقت میں خوشی کا باعث ہیں یا میرے اندر کچھ کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے میری ایک عید تو ٹھیک ہے لیکن دوسری یا تیسری عید ٹھیک نہیں اور جس کمزوری کی وجہ سے اس کی عید درست نہیں ہوئی اسے کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کمزوری اس میں نہ رہے۔اگر ہر احمدی یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اپنی جان کی قربانی اپنے مال کی قربانی اپنی عزت کی قربانی دینے سے کوئی دریغ نہیں تو سمجھو تمہاری عید الاضحیہ ٹھیک ہو گئی۔اگر تم نے جان ، مال اور عزت کی قربانی کر دی اور اپنے عہد کو پورا کر دیا تو سمجھو کہ تمہاری عید الفطر ٹھیک ہو گئی اور اگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے اتصال تام حاصل ہو جائے اور ہر وقت یہ بات تمہارے مد نظر رہے کہ ہم جماعت کا حصہ ہیں اور کسی صورت میں بھی اور کسی ابتلا سے بھی ہم جماعت کو تو نہیں چھوڑتے تو تم سمجھو کہ تمہاری عید الجمعہ بھی ٹھیک ہو گئی۔یہ قربانی عید الجمعہ کہلا سکتی ہے ورنہ ساتویں دن آنا اور آدھ گھنٹہ بیٹھ کر چلے جانا اور پھر یہ سمجھنا کہ ہم نے جمعہ ادا کر لیا ہے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔عیاش اور بد کار لوگ آدھ گھنٹہ چھوڑتین تین چار چار گھنٹے کنچنیوں کے ناچ گانے سننے میں گزار دیتے ہیں کیا ہم سمجھیں کہ انہوں نے بہت قربانی کی ہے۔پس یہ ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ کی قربانی کوئی قربانی نہیں بلکہ جمعہ کی اصل حقیقت کو مد نظر رکھنا اور اس پر عمل کرنا حقیقت میں عید الجمعہ کہلانے کی مستحق ہے۔چاہئے کہ تم میں سے ہر ایک فرد اس بات پر عزم سے قائم ہو جائے کہ خواہ کتنی ہی مشکلات مجھے پیش آئیں، خواہ کتنی ہی آفات مجھ پر پڑیں، خواہ کتنے ہی ابتلاء مجھے پیش آئیں ، جماعت سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ہماری جماعت کو یہ بات خصوصاً مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہم ابھی ابتدائی زمانہ میں ہیں گویا ہم پر جوانی کا زمانہ آ رہا ہے اور جوانوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ اپنے ارادوں پر بہت سختی سے قائم رہتے ہیں۔اس وقت صرف جماعت احمدیہ ہی ایسی جماعت ہے جس کا ایمان تازہ ہے اور جس کے ارادے بلند ہیں اور وہ اللہ تعالٰی کے تازه به تازه نشانات دیکھتی رہتی ہے۔عیسائیت کو قائم ہوئے انیس سو سال ہو گئے اس لئے اس پر بھی بڑھاپا چھا گیا ہے اور اسلام کے باقی فرقوں کو بھی کسی کو سات سو سال کسی کو آٹھ سو سال کسی کو نو سو سال ہو گئے ہیں۔اس وقت صرف جماعت احمدیہ ہی ایسی جماعت ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی تائیدات سے مؤید ہے اور اس میں جوانوں والے حوصلے اور جوانوں والی اُمنگیں