خطبات محمود (جلد 1) — Page 410
۱۰ کناس تھا آکر بیٹھ گیا۔بادشاہ کے سپاہیوں نے اسے اٹھانا چاہا لیکن اس نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔جب سپاہیوں نے زیادہ اصرار کیا تو مسجد میں جتنے نمازی تھے سب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی نماز پڑھنے کے لئے آئے ہیں بادشاہ کی نماز پڑھنے کے لئے نہیں آئے امام کی مسجد نے نماز پڑھانے سے انکار کر دیا آخر بادشاہ کو دینا پڑا۔اس کے بعد بادشاہ نے اپنے لئے مسجد کے صحن کے پیچھے ایک حجرہ بنوا لیا جس میں وہ نماز پڑھتا۔لیکن اس نے حجرہ بنوا کر اپنی ہی ناک کٹائی کسی دوسرے کا کیا نقصان ہوا کیونکہ مسجد کعبہ کے ثواب سے وہ محروم ہوا۔اس کے بعد بعض اور بادشاہوں نے بھی مسجد کے پیچھے حجرے بنوا لئے اور ان میں نماز ادا کرتے لیکن مسجد میں کوئی جگہ مخصوص نہ کر سکے۔پس اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جسے ہم اجتماعی مذہب کہہ سکتے ہیں۔اور مسلمانوں کے لئے یہ تین عید میں اس لئے رکھی گئی ہیں کہ مسلمانوں کو بوقتِ ضرورت قومی عہد باندھنے کا احساس رہے پھر اس عہد کو قومی طور پر پورا کرنے کا خیال رہے پھر قومی جتھے کو قائم رکھنے کا خیال رہے اور دشمن کسی صورت سے بھی ان میں انشقاق اور افتراق پیدا نہ کر سکے۔اب انہی تینوں عیدوں کو روحانی شکل دے لو۔انسان کی روحانی پیدائش یہ ہے کہ وہ کسی نیک انسان کے ہاتھ پر عقد بیعت باندھتا ہے اور اس سے رابطہ و اتحاد قائم کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ وہ ساری عمر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار رہے گا۔یہ اس کی عید الاضحیہ ہے اور اگر اس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور نیکی اور تقویٰ کے ساتھ زندگی بسر کی اور جس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا تو وہ خوش تھا تو یہ اس کی عید الفطر ہے۔عید الجمعہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالٰی سے اتصال کا رشتہ نہ توڑے اور ہر حالت میں خواہ عسر ہو خواہ یسر ثابت قدم رہے۔یہ تین روحانی عیدیں ہیں اور یہ تین مواقع ہیں جن پر مسلمانوں کو خوش ہونا چاہئے۔لیکن ج چیزیں مسلمانوں میں سے مفقود ہوں اس وقت ان کا میلوں میں جانا اور عیدیں منانا محض حماقت ہے۔ان عیدوں اور غیر مذاہب والوں کے میلوں میں کوئی فرق نہیں۔آج کل مسلمان ان عیدوں کی حکمت سے بالکل ناواقف ہو گئے ہیں۔بس میلوں میں جاتے ہیں عید گاہوں کے پاس یا ان کے راستوں پر کوئی ڈگڈگی بجا کر بند ر نچاتا ہے، کوئی ریچھ کا تماشا دکھاتا ہے کوئی پکوڑے بناتا ہے اور کوئی پنیاں بجاتا ہے، کچھ لوگ کشتیاں لڑتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد مسلمان یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بس عید ہو گئی گویا ایک میلہ آیا تھا جس کو انہوں نے کھیل تماشا کر