خطبات محمود (جلد 1) — Page 409
۴۰۹ ہیں۔ان تینوں عیدوں میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی بسر کرنی چاہئے اور پراگندہ نہیں ہونا چاہئے۔یہ تینوں عباد میں اسلام نے اجتماعی مقرر کی ہیں اور ان میں مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ دیکھنا باقی قوموں کی طرح اپنے دین کو انفرادی نہ بنا دینا۔باقی تمام قومیں ایسی ہیں جن کا دین اجتماعی دین نہیں وہ محض رسم و رواج کے طور پر ان مذہبوں کو پکڑے ہوئے ہیں۔ہندو یا عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والا خواہ ساری عمر میں ایک دفعہ بھی عبادت نہ کرے تو اس کا مذہب خراب نہیں ہوتا۔عیسائی ہر روز کی بجائے ساتویں دن گر جا جاتے ہیں اور باجہ بجاتے اور گاتے ہیں گویا یہ گانا بجانا عیسائیوں کی عبادت ہے۔آخر میں پادری انجیل کا کوئی حصہ پڑھ دیتا ہے اور سب آمین کہہ کر نکل جاتے ہیں اور کسی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ہر ہفتہ آئے یا نہ آئے۔اگر وہ آجائے تو اس کی مرضی اور اگر نہ آئے تو اس کی مرضی۔کوئی اخلاص نہیں کوئی تقویٰ نہیں۔بعض کے لئے کو چیں اور کرسیاں مخصوص ہیں اور ہر ایک اپنی کرسی اور کوچ کا کرایہ ادا کرتا ہے اگر وہ نہ آئے تو اس کی جگہ خالی رہے گی اور کوئی دوسرا شخص اس کی جگہ پر بیٹھ نہیں سکتا۔ذرا تم اس کا تصور اپنی نماز کے متعلق کر کے دیکھو کہ کیا نظارہ بنتا ہے کہ سنجے کی طرح کسی جگہ بال ہیں اور کسی جگہ بال نہیں ہیں۔ایک قطار میں دو آدمی کھڑے ہیں اور ان کے درمیان دو آدمیوں کا وقفہ ہے پھر چار کھڑے ہیں پھر چار آدمیوں کا وقفہ ہے یہ اجتماعی عبادت نہیں بلکہ اس کا نام تو عبادت رکھا ہی نہیں جا سکتا کہ ایک نے اپنی اپنی جگہ مقرر کی ہوئی ہے اور ہر ایک نے اپنا ٹھکانا مقرر کیا ہوا ہوتا ہے لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام کا یہ حکم ہے ہر آدمی جو پہلے آتا ہے اس کا حق ہے کہ وہ آگے بیٹھے جو پیچھے آتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ پیچھے بیٹھے کہ مسجد میں تمام انسان برابر ہیں۔مسجد میں ایک بادشاہ اور ایک چوہڑے میں کوئی امتیاز نہیں۔چوہڑا اگر پہلے آتا ہے تو وہ آگے بیٹھے گا اگر بادشاہ دیر سے آتا ہے تو وہ پیچھے بیٹھے گا۔انتظامی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے جو انتظام کیا جائے وہ اور بات ہے۔مثلاً ایک شخص فساد کی نیت سے آتا ہے یا ایک شخص شور مچاتا ہے تو اس کو پیچھے کیا جا سکتا ہے تاکہ امام کو تکلیف نہ ہو۔اس صورت کے سوا خانہ خدا میں سب انسان برابر ہیں اور کسی کو دوسرے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔جب میں حج کے لئے گیا - تو میں نے دیکھا کہ مسجد کعبہ کے صحن کے سرے پر ایک جگہ حجرہ بنا ہوا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ یہ حجرہ اس طرح بنا تھا کہ ایک بادشاہ جب مسجد میں آکر بیٹھا تو اس کے قریب کوئی غلیظ آدمی جو کہ ہر