خطبات محمود (جلد 1) — Page 390
۳۹۰ (۳۵) (فرموده ۹ - ستمبر ۱۹۴۵ء بمقام راشمی۔ڈلہوزی) انسانی زندگی کے ہر فعل کے مختلف نظریے ہوتے ہیں اور ایک ہی فعل کو مختلف نظریوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔کسی نظریے سے وہ فعل خوشی کا موجب ہو جاتا ہے اور کسی نظریے سے وہ فعل رنج کا موجب ہو جاتا ہے۔موت ہو ، حیات ہو ، کامیابی ہو، ناکامی ہو یہ سب کے سب امور ایسے ہیں کہ خواہ وہ دنیا میں بہترین خوشیوں کے نمونے سمجھے جاتے ہوں اور خواہ وہ دنیا میں رنج والم کے نمونے سمجھے جاتے ہوں انسان ان کے متعلق محسوس کر سکتا ہے اور محسوس کروا سکتا ہے۔ایک واقعہ مشہور ہے کہ بنو عباس لے کے زمانہ میں ایک بزرگ کو بادشاہ کی طرف حکم ملا کہ آپ کو تمام حکومت اسلامی کا قاضی القضاۃ مقرر کیا جاتا ہے۔اسلامی حکومت کا یہ عمدہ انگریزی حکومت کے لحاظ سے لارڈ چانسلر کے برابر ہے اور لارڈ چانسلر کا عہدہ اس قسم کا ہے کہ بعض لحاظ سے اسے وزارتِ عظمیٰ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔پرائم منسٹر خواہ ہیں سال تک کام کرے اس عہدہ سے علیحدہ ہونے پر اس کے لئے کوئی پنشن مقرر نہیں ہے لیکن لارڈ چانسلر خواہ تھوڑا عرصہ کام کرے اسے اس عمدہ سے علیحدہ ہونے پر پانچ ہزار پاؤنڈ سالانہ پنشن دی جاتی ہے۔جب اس بزرگ کو قاضی القضاۃ مقرر کیا گیا تو ان کے چند دوست انہیں مبارک دینے کے لئے گئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے دوست کو بہت بڑا عہدہ دیا گیا ہے ساری جوڈیشری (JUDICIARY) ان کے ماتحت کر دی گئی ہے اور ساری حکومت اسلامیہ کے آپ قاضی القضاۃ مقرر کئے گئے ہیں اس لئے ان کے نقطہ نگاہ سے یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔وہ اپنے دوست پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ہم بھی آپ کی خوشی میں شریک ہیں ان کو مبارک دینے کے لئے گئے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں اور سخت گھبراہٹ کے آثار ان کے چہرہ پر نمایاں ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ کیا واقعہ ہوا ہے آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اور ساتھ ہی بتایا کہ ہم تو اس خوشی کی خبر پر مبارکباد عرض کرنے کے لئے آئے ہیں۔انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ کو یہ بات خوشی کا باعث معلوم ہوتی ہے اور آپ اسے مبارک باد کے