خطبات محمود (جلد 1) — Page 378
i واجب القبول ہوگی اور اس بناء پر اگلے دن لوگوں کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہو گا یہ ایک شرعی حکم کی وضاحت ہے اور پہلی قسم سے متعلق ہے اس لئے قومی وحدت اور جماعتی نظم کی بناء پر اس قسم سے تعلق رکھنے والے انفرادی فتویٰ کو تسلیم کرنا عام حالات میں ضروری ہے۔سوائے اس کے کہ اس قسم کے فتویٰ میں خلیفہ وقت بمشورہ علماء کسی تبدیلی کا فیصلہ کرے یا قاضی بدلائل اس کے خلاف فیصلہ دے۔فتوی کی دوسری قسم اطلاقی ہے مثلاً اوپر کی مثال میں یہ فتویٰ کہ جس شخص نے گواہی دی ہے وہ معتبر ہے یا واقعہ میں اُفق ابر آلود یا غبار آلود تھا اس لئے اس شہادت کی بناء پر کل رمضان کا روزہ ہو گا۔اس قسم سے تعلق رکھنے والا انفرادی فتویٰ جائز القبول ہے یعنی جس کا دل چاہے اس پر عمل کرے اور جس کا دل چاہے عمل نہ کرے ہاں اگر علماء کی اکثریت اس فتوی کی تائید کرے یا خلیفہ وقت اس کی تصدیق فرما دیں یا اگر وہ قضائی معاملہ ہے تو قاضی اس کے مطابق فیصلہ دے تو پھر یہ بھی واجب التعمیل ہو جائے گا کیونکہ یہ انفرادی فتویٰ دراصل ایک اطلاقی فیصلہ ہے جو دراصل قضاء کے دائرہ کار کے اندر ہے۔اور حقیقتاً فتویٰ نہیں اور نہ دار الافتاء سے اس کا براہِ راست تعلق ہے کیونکہ عام حالات میں مفتی کو قاضی کے اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔حضور کا مذکوره ارشاد غالبا اس دوسری قسم کے فتویٰ سے متعلق ہے۔(مکتوب محررہ ۱۲۔مئی ۷۰ء ناظم صاحب دار الافتاء سلسلہ احمدیہ بنام مرتب) جنگ عظیم دوم (۱۹۳۹ء تا ۱۹۴۵ء) کی طرف اشارہ ہے جس میں اتحادی حکومتیں انگلستان امریکہ روس کا مقابلہ نازی جرمنی، اٹلی اور جاپان جو محوری طاقتیں کہلاتی ہیں سے تھا۔بالآخر فتح اتحادی حکومتوں کی ہوئی۔۱۸۵۸ء۔۱۹۰۵ ء۔بیعت ۱۸۸۹ء۔آپ کے بارے میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔وہ ہماری محبت میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اگر ہم دن کو کہتے کہ ستارے ہیں اور رات کو کہتے کہ سورج ہے تو وہ کبھی مخالفت کرنے والے نہ تھے وہ اصحاب الصفہ میں سے گئے تھے جن کی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنی وحی میں کی تھی ان کے متعلق ایک خاص الہام بھی تھا مسلمانوں کا لیڈر " ( بدر ۱۲ جنوری ۱۹۰۶ء) ہو ما