خطبات محمود (جلد 1) — Page 375
۳۷۵ دین سے پیار ہے، جسے دیانت سے پیار ہے، جس کے اندر نور ایمان اور نور اخلاص پایا جاتا ہے اب اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے دل کو استوار کر کے ہ لوگوں کو بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے اب اس کا یہی فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کر دے اور لوگوں کو بتائے کہ یہ وقت مسیح ہے۔ جنگ و جدل کا زمانہ گذر گیا۔ اب تلوار کا زمانہ نہیں بلکہ تبلیغ کا زمانہ ہے۔ پس ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ دن کو بھی تبلیغ کرے اور رات کو بھی تبلیغ کرے ، صبح کو بھی تبلیغ کرے اور شام کو بھی تبلیغ کرے اور جب عملی رنگ میں تبلیغ نہ کر رہا ہو تو دماغی رنگ میں تبلیغ کے ذرائع پر غور کرتا رہے گویا اس کا کوئی وقت تبلیغ سے فارغ نہ ہو اور وہ رات اور دن اسی کام میں مصروف رہے۔ مگر یاد رکھو تبلیغ وہی ہے جو حقیقی معنوں میں تبلیغ ہو بحث مباحثہ کا نام تبلیغ نہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح تم اُس سانپ کو مارنے کی فکر میں لگ جاتے ہو جو تمہارے گھر میں نکلے اسی طرح اگر تمہارے دلوں میں نور ایمان پایا جاتا ہے تو تم بحث و مباحثہ کو اسی طرح کچل دو جس طرح سانپ کا سر کچلا جاتا ہے۔ جب تک تم میں بحث و مباحثہ رہے گا اس وقت تک تمہاری تبلیغ بالکل محدود رہے گی اور تمہارا مشن ناکام رہے گا۔ اگر تم اپنی تبلیغ کو وسیع کرنا چاہتے ہو ، اگر تم اپنے مشن میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تم بحث مباحثہ کو ترک کر دو۔ جس دن تم تبلیغ کے لئے صحیح معنوں میں نکلو گے اور اپنے دلوں میں لوگوں کیلئے درد اور سوز بھر کر ان تک پہنچو گے وہی دن تمہاری کامیابی کا دن ہو گا اور اسی دن تم صحیح معنوں میں تبلیغ کرنے والے قرار پا سکو گے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تمہارے سامنے خدا تعالی نے جو راستہ کھولا ہے اس پر چل پڑو اور اپنے دائیں بائیں مت دیکھو کہ مومن جب ایک صحیح راستہ پر چل پڑتا ہے تو اپنے ایمان اور اخلاص کے لحاظ سے وہ کسی اور طرف دیکھنے سے اندھا ہو جاتا ہے اور ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام میں ہے کہ میں اس راستہ پر چلتا چلا درمیان میں آنے والی کسی روک کی پروانہ کروں۔ وہ بہادر اور نڈر ہو کر سچائی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور بحث مباحثہ کو ترک کر دیتا ہے۔ چلتا چلا جاؤں اور میرے پاس ایک دفعہ ایک انگریز آیا اور مجھے کہنے لگا آپ کس طرح کہتے ہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ میں نے اسے اسلام کی سچائی کے متعلق کئی دلا کل بتائے مگر ہر دلیل جب میں