خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 372

L ۳۷۲ خدا سچا خدا ہے ، محمد رسول اللہ صلی علیم اس کے سچے رسول ہیں، قرآن اس کی بچی کتاب ہے تا کہ اگر کوئی شخص مقابلہ کرے تو وہ خدا تعالیٰ کے نشانات و معجزات کی تلوار سے کاٹا جائے اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار سے اس کے سر پر پڑے۔ آخر ہوائی جہاز کیوں غالب آتے ہیں اسی لئے کہ وہ اوپر ہوتے ہیں اور لوگ نیچے ہوتے ہیں۔ رسول کریم میں لیم فرماتے ہیں کہ اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفلی ۲۳ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز چونکہ اوپر ہوتے ہیں اور لوگ نیچے ہوتے ہیں اس لئے وہ بمباری کر کے لوگوں کو ہلاک کر دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے فرشتے تو ہوائی جہازوں سے بھی اوپر ہوتے ہیں۔ پس جب کوئی خدا تعالیٰ کے دین کا مقابلہ کرتا ہے تو فرشتے آسمان کی بلندیوں سے اس پر گولے برساتے ہیں اور کسی شخص کی طاقت میں نہیں ہوتا کہ ان کا مقابلہ کر سکے کیونکہ ہوائی جہاز بھی نیچے رہ جاتے ہیں، لوگ بھی نیچے ہوتے ہیں مگر فرشتے ! ہوتے ہیں مگر فرشتے اوپر سے ان پر گولے برساتے ہیں۔ تو اللہ تعالٰی نے موجودہ زمانہ کے حالات کے ذریعہ ہمیں بتا دیا ہے کہ اسلحہ کے ذریعے دشمنوں کا کبھی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ لوگ سخت غلطی پر تھے جو جہاد کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ سمجھے بیٹھے تھے۔ دجالی طاقتوں کو کچلنے اور اسلام کو غالب کرنے کا ایک یہی ذریعہ ہے کہ ہر شخص تبلیغ میں منہمک ہو جائے اور لوگوں تک خدا تعالیٰ کی وہ آواز پہنچائے جو اس کے کانوں میں پڑی اور جسے قبول کرنے کی اسے سعادت حاصل ہوئی۔ بے شک یہ ایسا ذریعہ ہے کہ انسان بعض دفعہ یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ تلوار دو سرے کی بجائے وہ خود اپنے اوپر چلا رہا ہے۔ وہ تبلیغ کرتا ہے اور مہینوں نہیں سالوں تبلیغ کرتا چلا جاتا ہے مگر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ تلوار بے حقیقت ہے یا تبلیغ اپنے اندر کوئی اثر نہیں رکھتی کیونکہ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک مدت کے بعد جب تبلیغ کا اثر ہونے لگتا ہے تو لوگ یوں جوق در جوق حق کو قبول کرنے لگ جاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے دریا نے بڑی تیزی سے کناروں کو گرانا شروع کر دیا ہے۔ غلطی یہ ہے کہ صحیح طور پر تبلیغ نہیں کی جاتی اور استقلال سے تبلیغ نہیں کی جاتی۔ رسول کریم ملی کا ہم نے تیرہ سال تبلیغ کی مگر مکہ میں سے صرف اسی آدمیوں نے آپ کو قبول کیا۔ ۲۴، اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لے گئے تو پانچویں سال کے آخر میں ہی قوموں کی قومیں، علاقوں کے علاقے اور قبیلوں کے قبیلے اسلام میں داخل ہونے لگ گئے اور وہ آپ کے پاؤں پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے لگے ۔ ۲۵