خطبات محمود (جلد 1) — Page 355
۳۵۵ ہے کہ اس رزق میں کسی انسان کا دخل نہیں ہوتا اور بعض دفعہ بندوں کے ذریعہ ہی انہیں رزق پہنچا دیتا ہے مگر اس صورت میں بھی ہاتھ ان کا ہی اونچا رہتا ہے کیونکہ بعض چیزیں بعض کی نسبت سے اچھی سمجھی جاتی ہیں اور اگر وہ نسبت قائم نہ رہے تو ان کی خوبی بھی زائل ہو جاتی ہے۔چنانچہ کئی لوگ صرف اس لئے اچھے سمجھے جاتے ہیں کہ انہوں نے کسی بزرگ کی خدمت کی ہوئی ہوتی ہے اب ایسے بزرگ سے جو کوئی تعلق رکھے گا اور اس کی خدمت بجا لائے گاوہ یہ نہیں سمجھے گا کہ میں نے احسان کیا بلکہ وہ یہ سمجھے گا کہ مجھ پر احسان کیا گیا ہے۔قصہ مشہور ہے کہ کوئی بادشاہ تھا وہ کسی بزرگ کے گھر اس سے ملنے کے لئے گیا اور اس کے ایک لڑکے سے پیار کرتے ہوئے کہنے لگا۔بتاؤ لڑکے تمہارے باپ کا گھر اچھا ہے یا میرا۔لڑکا بڑا ذہین تھا وہ کہنے لگا امیرالمومنین اس وقت تو میرے باپ کا گھر زیادہ اچھا ہے کیونکہ امیرالمومنین اس میں موجود ہیں۔تو دیکھو کوئی انسان ایسا بھی ہوتا ہے جسکے ساتھ تعلق ہونے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے اور اس کی شان میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ اسلامی امیرالمومنین نہیں تھا مگر بہر حال بادشاہ ہونے کی وجہ سے اس لڑکے نے یہی کہا کہ اس وقت میرے باپ کا گھر زیادہ اچھا ہے کیونکہ آپ اس میں موجود ہیں تو دنیا میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو لوگ جب کچھ دیتے ہیں تو ان پر احسان کرتے ہیں مگر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دینے کے باوجود دینے والے پر احسان ہوتا ہے۔اس شخص پر کوئی احسان نہیں ہو تا جسے دیا گیا ہوتا ہے وہ اپنی عزت اور اپنا شرف اسی بات میں سمجھتے ہیں کہ یہ نسبت قائم رہے کہ ہم نے فلاں کی خدمت کی۔جیسے اس لڑکے نے کہا کہ اس وقت میرے باپ کا گھر زیادہ اچھا ہے۔یعنی دیواریں تو بادشاہ کے مکان کی اچھی ہیں مگر شرف چونکہ ایک خاص آدمی کی وجہ سے ہے اور وہ اس وقت ہمارے گھر میں ہے اس لئے ہمارا گھر زیادہ بہتر ہے۔اسی طرح مالدار کا شرف مال میں نہیں بلکہ اس کا شرف اس بات میں ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرنے کی توفیق کس حد تک ملی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں اسے اپنا مال خرچ کرنے کی توفیق حاصل ہو گئی ہے تو اس کا مال اس کے لئے شرف کا موجب ہے اور اگر یہ توفیق اسے حاصل نہیں ہوئی تو اس کا مال اس کے لئے شرف کا موجب نہیں سمجھا جا سکتا۔غرض اگر ہم میں سے ہر ایک کو قرآن کریم آ جائے اور اس دولت سے ہماری جماعت کا ہر فرد متمتع ہو جائے تو ہم بہت حد تک اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جائیں۔پھر یہ بھی سمجھ لو کہ اگر سارے لوگ ہی قرآن کریم جاننے