خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 343

۳۳ ان کے لئے گورنمنٹ کے انتظام کی ضرورت نہیں۔ایک غریب سے غریب شخص جو سکاٹ لینڈ کے ایک جھونپڑے میں رہتا ہے وہ بھی کسی مذہبی خوشی کے دن اپنے گھر میں بیٹھ کر عید منا رہا ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دنیا کے سارے میلے اس کے گھر میں جمع ہیں۔یہی حال یہودیوں اور سکھوں وغیرہ کا ہے جو ایام سکھوں کے گوروؤں نے مقرر کئے ہیں وہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی اس خوشی کے ساتھ منائے جاتے ہیں کہ لوگ اپنی ذاتی خوشیاں اس دن بھول جاتے ہیں اور ان مذہبی ایام کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔یہ کتنا بڑا امتیاز اور کتنا عظیم الشان نشان ہے جو ہمیں نظر آتا ہے کہ دنیا میں ایک طرف ایک اتنی بڑی جنگ لڑی جاتی ہے جس میں پندرہ ہمیں حکومتیں شامل ہوتی ہیں ، لاکھوں آدمی مارے جاتے ہیں اور پھر جب وہ جنگ ختم ہوتی ہے تو حکومتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ اس کی یادگار میں فلاں دن منایا جایا کرے مگر ابھی ۲۳ سال بھی نہیں گزرتے کہ وہ دن اپنی تمام شان کھو بیٹھتا ہے۔صرف چند شہروں میں اسے رسمی طور پر منایا جاتا ہے اور محض اس ڈر سے کہ لوگ تعمیل نہیں کریں گے صرف دو منٹ خاموش رہنے کے لئے کہا جاتا ہے مگر دو منٹ چپ رہنے والے بھی نہیں ملتے اور جو لوگ اس دن خوشی مناتے ہیں ان میں سے اکثر صرف اس لئے خوشی مناتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر یا گور نر سے جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے اس دن یہ کام کیا ہے تاکہ خطاب کی لسٹوں میں یا آنریری مجسٹریٹوں کی لسٹ میں ان کا نام آجائے۔مگر دیوالی کے لئے عید کے لئے ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے دوسرے مذہبی ایام کے لئے بغیر کسی تحریک کے بے انتہاء جوش ہوتا ہے۔ہر مقام پر ہر شخص ان دنوں میں خوشی مناتا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان دنوں کی خوشی ہر مذہب کے مومنوں کے لئے ایسی زیادہ ہوتی ہے کہ کئی مخلص ایسے نکلیں گے کہ اگر انہیں کہا جائے کہ تم اپنی عید نہ مناؤ تمہیں آنریری مجسٹریٹ بنا دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ہم دس لاکھ لعنت تمہاری آنریری مجسٹریٹی پر ڈالتے ہیں اور ہم اپنی عید چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے جو خدا کے کاموں میں اور دنیا کے کاموں میں نظر آتا ہے۔اور کس طرح اس سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ جس بات کو خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے وہ خود بخود دلوں میں گھر کرتی چلی جاتی ہے اور کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو مٹا نہیں سکتی۔مگر جس چیز کو دنیا قائم کرنا چاہے وہ نہایت پیچ نہایت کمزور اور نہایت ، ناپائیدار ہوتی ہے۔اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہم سب کو یہ کوشش کرنی چاہئے