خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 330

۳۳۰ (۳۱) فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۱ء بمقام عید گاہ۔قادیان) دنیا میں ہر قوم اپنی خوشی کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ تجویز کرتی اور اپنے مشہور واقعات کی یاد گار منانے کی کوشش کیا کرتی ہے۔کیا ہندو اور کیا سکھ اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی اور کیا یہودی سب ہی قوموں میں ایسے ایام پائے جاتے ہیں جو ان کے بزرگوں کی کسی کامیابی کی یاد میں خوشی کے دن کے طور پر منائے جاتے ہیں۔استثنائی صورت فرقوں میں سے ایک شیعوں کے فرقہ کی ہے جو بجائے خوشی کا دن منانے کے رنج کا دن مناتا ہے۔مگر بہر حال شیعوں کا رنج بھی ایک ایسی ہستی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں میں سے تھی اور جس کی موت یا شہادت اللہ تعالیٰ کی خاطر اور دین کی خاطر ہوئی تھی۔اے ان یادگاروں کے علاوہ دنیوی یادگاریں بھی ہوتی ہیں چنانچہ بعض قومیں اپنی فتح کے نشانات قائم کرتی ہیں ، بعض قو میں اپنے کسی دشمن کی تباہی کے نشانات قائم کرتی ہیں اور بعض قو میں اپنی کسی خاص اقتصادی یا سیاسی کامیابی کے نشانات قائم کرتی ہیں۔ان میں سے سوائے ان ایام کے جو جسمانی تعیش کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سوائے ان ایام کے جو انسانی فطرت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں باقی ایام کا اگر دینی یادگاروں سے سے مقابلہ کیا جائے تو ہمیں ان میں ایک بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔مثلاً موسموں کی تبدیلی ہے۔جن علاقوں میں سخت سردی پڑتی ہے ان میں جب گرمی کا موسم آتا ہے تو قدرتی طور پر سب کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ خوشی منانے کے لئے کوئی نہ کوئی طریق اختیار کرتے ہیں۔ہندوستان میں برسات کا موسم اور بہار کا موسم خاص طور پر اچھے مجھے جاتے ہیں۔بہار میں لوگ باغوں میں جانا اور سیرو تفریح کرنا پسند کرتے ہیں اور برسات میں عورتیں جھولے جھولنا پسند کرتی ہیں۔اسی طرح لوگ اس موسم میں آموں کی پارٹیوں اور نہروں اور دریاؤں پر نہانے کا انتظام کرتے ہیں۔یہ در حقیقت قومی ایام نہیں بلکہ موسمی ایام ہوتے ہیں۔ایک مسلمان کے دل میں بھی اگر وہ انگلستان میں رہتا ہو تو مئی کے دنوں میں خوشی کی لہر پیدا ہو جائے گی اور وہ کہے گا کہ اب سردی کی تکلیف کے دن ختم ہونے لگے ہیں۔اسی