خطبات محمود (جلد 1) — Page 326
۳۲۶ جلسہ سالانہ پر بھی اکٹھے نہیں ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اس میں سات سو کے قریب احمدی آئے تھے ۲۲ اور اس کو اتنا بڑا نشان سمجھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک دن جب کہ سیر کے لئے تشریف لے گئے تو تھوڑی دور جانے کے بعد ہی واپس آگئے اور آپ نے فرمایا کہ اتنے بڑے گروہ کے ساتھ اب سیر کرنا مشکل ہے۔اور فرمایا شاید اب میری وفات کا زمانہ قریب آگیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی وفات اسی وقت ہوتی ہے جب ان کا سلسلہ ترقی کر جائے۔تو اس وقت سات سو آدمیوں کے آنے کو اتنی اہمیت دی گئی کہ ان کا آنا خدا تعالی کا ایک نشان سمجھا گیا مگر آج قادیان میں معمولی تقریبوں پر تین تین چار چار ہزار آدمی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور جلسہ سالانہ پر کجا تو سات سو آدمی آئے تھے اور ان کے آنے کو ایک بہت بڑا نشان سمجھا گیا تھا اور کجا یہ حالت ہے کہ گزشتہ جلسہ جو بلی ۲۳ کے موقع پر بیالیس ہزار آدمی اکٹھے ہوئے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معجزانہ ترقی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایسی ترقی نہیں جسے دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ اب دنیا احمدیت کا مقابلہ کرنے سے مایوس ہو چکی ہے اور جس ترقی کا میں نے ذکر کیا ہے وہ وہی ہے جس کے بعد لوگ مقابلہ کرنے سے مایوس ہو جاتے ہیں اور یہ چیز تو ہمیں ابھی قادیان میں بھی میسر نہیں اور اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب کے رہنے والے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کہتے ہوئے احمدیت میں داخل نہ ہو جائیں۔صرف ہندوستان کے لوگ ہی نہیں ، صرف ایشیا کے لوگ ہی نہیں ، صرف افریقہ اور امریکہ کے لوگ ہی نہیں، بلکہ جب تک تمام کے تمام بر اعظم احمدیت کے جھنڈے تلے نہیں آجاتے اس وقت تک وہ روحانی غلبہ جو جماعت کے لئے مقدر ہے نہیں آسکتا۔پس ہماری جماعت کو یہ پچیس سال ایسے سمجھ لینے چاہئیں جیسے زندگی اور موت کا سوال اور ہر شخص کو تبلیغ میں مصروف ہو جانا چاہئے۔اگر وہ اپنے رشتہ داروں میں تبلیغ کر سکتا ہے تو رشتہ داروں میں تبلیغ کرے، غیروں میں تبلیغ کر سکتا ہے تو غیروں میں تبلیغ کرے ، اپنے ملک کے اندر تبلیغ کر سکتا ہے تو ملک کے اندر تبلیغ کرے اور اگر ممالک غیر میں جاکر تبلیغ کر سکتا ہے تو ممالک غیر میں جا کر تبلیغ کرے۔