خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 273

روزے رکھ کر مرجاتا ہے کوئی چھ روزے رکھ کر مرجاتا ہے کوئی سات کوئی آٹھ کوئی دس کوئی پندرہ کوئی میں کوئی اکیس ، کوئی بائیں کوئی تئیس ، کوئی چوہیں کوئی پچیس کوئی چھیں کوئی ستائیں ، کوئی اٹھا ئیں اور کوئی انتیس روزے رکھ کر مرجاتا ہے۔اب فرض کرد کسی نے انتیس ۲۹ روزے رکھے تھے کہ وہ گھر سے نکلا اور موٹر سے ایسا ٹکرایا کہ وہیں فوت ہو گیا یا اسے ہیضہ ہوا اور وہ مر گیا یا اسے کسی اتفاقی حادثہ سے آگ لگ گئی ، یا اس کا ہارٹ فیل ہو گیا تو گویا وہ انتیس ۲۹ روزے رکھ چکا تھا اور اس بات کی امید کر رہا تھا کہ مجھے اس کے بعد عید ملے گی مگر انتیس ۲۹ روزوں کے بعد اس کی عید کہاں گئی ؟ اسے نہ صرف خود عید نہ ملی بلکہ اس کے گھر کی عید بھی خراب ہو گئی۔غرض اسی طرح سوا تین لاکھ آدمی رمضان میں ایسا مرتا ہے جو عید کی تیاری تو کرتا ہے مگر اسے عید میسر نہیں آتی۔مگر کیا اس امر کو دیکھتے ہوئے باقی مسلمان روزے رکھنا چھوڑ دیتے ہیں؟ اور کیا وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیوں روزے رکھیں ہمیں کیا پتہ ہمیں عید ملے گی یا نہیں؟ وہ باوجود یہ نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے وہ باوجود اس کے کہ وہ یقینی اور قطعی طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم میں سے ایک تعداد ایسی ہے جسے عید میسر نہیں آسکتی پھر بھی روزے رکھتے اور قربانیاں کرتے ہیں اس لئے کہ جو قومی زندگی کا طریق ہے وه فردی نتائج کو نہیں دیکھا کرتا۔اگر ساری قوم قربانیاں نہیں کرے گی تو کسی کو بھی عید میسر نہیں آئے گی۔لیکن اگر ساری قوم قربانیاں کرے گی تو بعض کو عید ملے گی اور بعض کو نہیں ملے گی۔یہ سبق ہے جو تمثیلی زبان میں عید کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا اور بتایا کہ جب تم اجتماعی کاموں کے لئے کوشش کرتے ہو تو یہ ضروری نہیں ہو تاکہ ہر فرد کی قربانی اس کی زندگی میں نتیجہ پیدا کر دے۔بالکل ممکن ہے کہ ایک تعداد قربانیاں کرے مگر نتیجہ کچھ بھی نہ دیکھے اور کچھ دوسرے قربانیاں کریں اور ان کا نتیجہ انہیں مل جائے۔تو قومی کاموں کے نتائج افراد کے لحاظ سے نہیں دیکھنے چاہئیں۔جو تو میں یہ سبق سیکھ لیتی ہیں وہ عیدوں پر عید میں دیکھتی چلی جاتی ہیں۔مگر جو قومیں اس سبق کو بھلا دیتی ہیں وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔جرمنی اور انگلستان کی لڑائی ہوئی اور اس میں دو کروڑ آدمی یا زخمی ہوا یا مارا گیا۔اٹھارہ اٹھارہ ہیں ہیں ، بچیں بچیں، تمھیں تمہیں اور چالیس چالیس سال کی عمر سے لے کر بڑھاپے تک کی عمر کے لوگ اس جنگ میں شامل ہوئے اور مارے گئے۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں چلے گئے، ایسے بھی تھے جو اپنی بیویاں چھوڑ کر میدان جنگ میں چلے