خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 272

۲۷۲ دفعہ اس نے بہت اصرار کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیغام بھیجا اور آپ تشریف لے گئے۔اس وقت بچہ پر نزع کی حالت طاری تھی آپ نے اسے گود میں اٹھایا اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے جب آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹیکنے لگے تو ایک شخص نے کہا۔یا رسول اللہ آپ تو لوگوں کو صبر کی تلقین فرمایا کرتے ہیں آپ اس موقع پر کیوں رو رہے ہیں؟ رسول کریم میہ و سلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے رقیق القلب بنایا ہے اگر تیرے دل کو اس نے سخت بنایا ہے تو میں کیا کروں۔ھو یہ تمثیلی زبان تھی جس میں رسول کریم میں تعلیم کی فطرت نے آپ کو ظاہر کیا۔آنسو کیا ہیں؟ وہ تمثیلاً محبت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں۔جن میں فطرت اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے اور فطرت چونکہ حقیقی چیز ہے اس لئے جو اثر اس میں ہوتا ہے وہ چھڑے کی زبان میں نہیں ہو تا۔یہ جو عید کا موقع ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تمثیل پیش کی ہے اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی سبق دیئے ہیں۔مگر وہ سبق جو آج میں بیان کروں گا اگر اس کو جماعت کے لوگ اپنے ذہن میں مستحضر رکھیں تو ان کی جماعتی زندگی میں بہت بڑا تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔دیکھو ہم تھیں دن روزے رکھتے ہیں یا ۲۹ دن روزے رکھتے ہیں اور ۲۹ یا ۳۰ دنوں کے بعد ایک دن ایسا آتا ہے جب ہم عید مناتے ہیں گویا تمشیلی زبان میں ہم اقرار کرتے ہیں کہ دنیا کی ساری خوشیاں قربانی کے بعد پیدا ہوتی ہیں جب تک ہم قربانی نہ کریں اس وقت تک ہم حقیقی خوشی دیکھ ہی نہیں سکتے۔مگر دیکھو تمیں دن کے جو روزے ہیں ان میں کیا خدا کا یہ قانون ہے کہ کوئی مسلمان نہ مرے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ باقی گیارہ مہینوں میں تو مسلمان مرتے رہتے ہیں مگر اس کی بارہویں مہینہ میں مسلمان نہیں مرتے۔یقیناً اس بارہویں مہینہ میں بھی اسی طرح مسلمان مرتے ہیں جس طرح باقی گیارہ مہینوں میں۔پس رمضان کے مہینہ میں ان مسلمانوں کا بارہواں حصہ فوت ہوتا ہے جو سال کے باقی مہینوں میں فوت ہوتے ہیں۔مسلمان اس وقت دنیا بھر میں چالیس کروڑ ہیں۔اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ایک فیصد آدمی روزانہ مرتا ہے تو سال بھر میں چالیس لاکھ آدمی مرجاتے ہیں۔اب اگر ہم اس تعداد کو مہینوں میں تقسیم کریں تو سوا تین لاکھ مسلمان ایسے بنتے ہیں جو ہر مہینہ میں مرتے ہیں اور اس لحاظ سے رمضان میں بھی سوا تین لاکھ مسلمان مرتے ہیں۔کچھ لمبی بیماریوں سے کچھ فوری بیماریوں سے کچھ اتفاقی حادثات سے ، پھر ان میں سے بھی کوئی دو روزے رکھ کر مرجاتا ہے کوئی تین روزے رکھ کر مرجاتا ہے کوئی چار۔