خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 271

۲۷۱ شخص بیٹا نہیں اور وہ مصنوعی طور پر ایک نظارہ پیش کر رہے ہیں تو ہم اعلیٰ سے اعلیٰ اور قیمتی سے قیمتی جذبات کو کھیل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان چیزوں کا ایک ظاہری اثر بھی ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ لوگ اس طرح نقال بن جاتے ہیں۔گویا اس چیز کا دوہرا اثر ہوتا ہے اور وہ دو دھاری تلوار ہے جو ایک طرف جہاں اعلیٰ جذبات کو ابھارتی ہے وہاں دوسری طرف بعض اعلیٰ جذبات کو کچل بھی دیتی ہے اور ہنسی اور تمسخر کی طرف انسان کو مائل کر دیتی ہے۔چنانچہ ایکٹڑوں کی زندگی دیکھ لو۔وہی ایکٹر جو ایکٹنگ کے وقت رو رہا ہوتا ہے جب اس جگہ سے الگ ہوتا ہے تو بسا اوقات سیدھا شراب خانے کا رخ کرتا اور اپنی محبوبہ سے عیش و عشرت میں مشغول ہو جاتا ہے لیکن اگر تم اس گھر کو دیکھو جہاں ماں باپ اپنے بیمار بچے کے پاس اس کی تیمارداری میں مشغول تھے اور ایک دو گھنٹے کے بعد پھر ان کے حالات کا جائزہ لو تو تمہیں وہاں اور بھی فکر و ملال کے آثار نظر آئیں گے۔پھر جب اس سٹیج پر تمہیں یہ نظارہ دکھائی دے کہ بیمار لڑکا مر گیا ہے اور ایکٹر رو رہے ہیں تو اس کے ساتھ ہی تمہیں یہ بھی نظر آئے گا کہ تھوڑی دیر کے بعد وہی رونے والے کھانے پینے اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جاتے ہیں۔مگر وہ گھر جہاں واقعہ میں کوئی موت ہو جائے اگر اس گھر میں جا کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ماں افسردہ ہے، اس کے کپڑے میلے کچیلے ہیں ، اسے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پینے کا رات دن وہ گریہ و بکا میں مشغول رہتی ہے یہاں تک کہ زمانہ آپ ہی آپ اس کا غم مٹا دیتا ہے۔تو اس جگہ انسانی طبیعت پر جو اثر پڑے گاوہ ایک ہی رنگ کا ہو گا اور اچھا ہی ہو گا۔مگر جہاں ایکٹ کر کے کوئی واقعہ دکھایا جاتا ہو اس کے دیکھنے سے دو طرح کا اثر پڑے گا ایک اچھا اور ایک برا۔اسلام نے اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے نقل سے منع کیا ہے اور رسول کریم م نے فرمایا ہے کہ جو شخص کوئی ہنسی مذاق کا کام اس لئے کرتا ہے تاکہ دوسرے کو ہنسائے اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔کہ گویا مصنوعی ایکٹنگ کو رسول کریم میں یا اللہ نے لعنت کا باعث قرار دیا ہے۔ہاں اس ایکٹنگ کو رسول کریم نے لعنت کا باعث قرار نہیں دیا جہاں تمثیلی زبان میں فطرت اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے سوائے اس کے کہ وہ اظہار حد سے زیادہ ہو۔چنانچہ رسول کریم میلہ کا ہی واقعہ ہے۔آپ ہمیشہ لوگوں کو صبر کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔مگر آپ کا ایک نواسہ ایک دفعہ شدید بیمار ہوا۔آپ کی بیٹی کی طرف سے آپ کو کئی دفعہ پیغام پہنچا کہ بچے کو آکر دیکھ جائیں۔مگر چونکہ آپ کی طبیعت رقت والی تھی اس لئے آپ نہ گئے مگر آخری۔