خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 264

۲۶۴ انہیں اجازت دے دی لیکن آپ جب رسول کریم میں ایم کی مجلس سے اُٹھ کر باہر آئے تو دیکھا کہ ایک جگہ کفار کی مجلس لگی ہوئی ہے اور مکہ کے بڑے بڑے عمائد رسول کریم میں ہم کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ان سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے زور سے کہا لا إِلهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ - ایسے شدید دشمنوں کے پاس جنہیں اپنی طاقت و قوت پر بھی بہت گھمنڈ تھا جب انہوں نے بلند آواز سے کلمہ پڑھا تو کفار کو جوش آگیا اور ا در انہوں نے آپ کو اتنا مارا کہ آپ زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے۔ حضرت عباس ملے کہیں پاس سے گزرے تو انہوں نے کفار سے کہا غفار قبیلہ سے تمہارے پاس غلہ آتا ہے اگر تم اسے نہ چھوڑو گے اور اس کی قوم نے اس کا ساتھ دیا تو تمہارے پاس غلہ آنا بند ہو جائے گالا، اور تم بھوکے مر جاؤ گے اس لئے بہتر ہے کہ اسے چھوڑ دو۔ آخر بڑی مشکلوں سے انہوں نے حضرت ابوذر کو ان کے ہاتھ سے چھڑایا۔ وہ گھر گئے اور چند دن ٹکوریں کرتے رہے۔ جب آرام آگیا تو باہر نکلے اور دیکھا کہ کفار کی پھر ایک مجلس لگی ہوئی ہے اور وہ رسول کریم میں ہم کو برا بھلا کہہ رہے ہیں انہیں پھر جوش آگیا اور وہ بلند آواز سے کہنے لگے ۔ اَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ انہوں نے پھر آپ کو مارا اور شدید طور پر زخمی کر دیا۔ وہ پھر گھر میں زخموں کا چند دن علاج کرنے کے بعد جب باہر نکلے تو اسی طرح ایک اور مجلس میں انہوں نے بلند آواز سے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا اور لوگوں نے پھر انہیں مارا۔ اب دیکھو یہ ایک لذت تھی جو انہیں آ رہی تھی اور جس کے نتیجہ میں وہ بار بار اپنے اسلام کا ذکر کرتے اور بار بار لوگوں سے مار کھاتے اور گو رسول کریم کی طرف سے انہیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہ اپنے اسلام کو چھپائیں لیکن عمل کی لذت کی وجہ سے وہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے ماریں کھائیں۔ اسی طرح رسول کریم ملی کے زمانہ میں ایک بچہ تھا بارہ تیرہ سال اس کی عمر تھی کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بچہ تھا لیکن چونکہ وہ مسلمان ہو گیا اور اس کے ماں باپ سخت متعصب تھے اس لئے جب کھانا کھانے کا وقت آتا تو اُس کی ماں اس کے آگے اس طرح روٹی پھینک دیتی جس طرح کتے کے آگے روٹی پھینکی جاتی ہے برتن میں وہ اس لئے رکھ کر نہ دیتی کہ اس طرح بر تن پلید ہو جاتا ہے۔ آخر جب اسلام پر وہ مضبوطی سے قائم رہا تو اسے ماں باپ نے گھر سے نکال دیا اور کہا یا تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جانا چھوڑ دے یا گھر سے چلا جا۔ اس نے گھر چھوڑ دیا اور غالبا حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا۔ سالہا سال کے