خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 261

۲۶۱ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ مجھے کچھ مہلت دی جائے تاکہ میں لوگوں کو يَوْمَ الْبَعْث سه تک در غلاؤں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جس پر يَوْمَ الْبَعْثِ آ ئے اس کی عید اسی دنیا سے مستقل ہو جاتی ہے اور وہ اپنے درجہ سے گرتا نہیں۔رسول کریم پر یہ عید اس دنیا میں آگئی تھی اور آپ ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے کہ آپ کے لئے یہ ناممکن تھا کہ گر سکیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا محمد میں اسلام نے عمل کرنا چھوڑ دیا کیا انہوں نے نمازیں ترک کر دیں، روزے رکھنے بند کر دیئے اور اسی طرح شریعت کے دو سرے احکام پر انہوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی وہ دن آیا مگر کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشاعت دین کا کام چھوڑ دیا اور خدمت خلق ترک کر دی؟ ہم تو یہی دیکھتے کہ آپ رات اور دن برابر کام کرتے رہتے تھے۔پس کام چھوڑنے کا نام عید نہیں بلکہ کام میں زیادتی اور خوشی کا نام عید ہے۔چنانچہ دیکھ لو جس دن ہم عید پڑھتے ہیں اس دن پانچ نمازوں کے علاوہ ایک چھٹی نماز بھی ہمیں پڑھنی پڑتی ہے لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے روحانیت ترقی کرتی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور اس کی محبت انسان کو میسر آتی ہے اور یہ نہ صرف ہمارا عقیدہ ہے بلکہ ہماری جماعت میں سے ایک حصہ تجربہ کر کے اللہ تعالٰی کی ان نعمتوں کو دیکھ چکا ہے اس لئے یہ زائد عبادت بجائے بوجھ ہونے کے ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو جاتی ہے لیکن جسے اس حقیقت کا علم نہ ہو اور وہ عید کا مطلب صرف یہ سمجھتا ہو کہ اچھے کپڑے پہن لئے اور عمدہ کھانا کھا لیا وہ یہی کہے گا کہ اچھی مصیبت آئی آگے تو پانچ نمازیں تھیں اور آج جو عید کا دن آیا تو چھ نماز میں کر دیں۔پھر اس نماز کے ساتھ خطبہ بھی رکھ دیا۔گویا چھٹی نماز کے بعد بھی جتنا وقت انسان اپنے گھر میں صرف کر سکتا ہے اتنا وقت بھی نہ رہنے دیا اور اس میں سے بھی ایک حصہ خطبہ کے لئے رکھ لیا۔مگریہ نادانی ہے اور ایسی باتوں کا اُسی وقت خیال آتا ہے جب کام کی حقیقت انسان پر واضح نہیں ہوتی ور نہ وہ لوگ جن پر يَوْمَ يُبْعَثُونَ ، والی کیفیت طاری ہو جائے وہ کام کو بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔جیسے باپ جب اپنی اولاد کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو بجائے بوجھ سمجھنے کے خوش ہوتا ہے، یا ایک خدا پرست ڈاکٹر جو خدمت خلق میں مشغول رہتا ہے اور چاہے رات ہو یا دن مریضوں کو دیکھنے کے لئے چلا جاتا ہے وہ اس خدمت کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ خوشی محسوس کرتا ہے یا ایک علم پڑھانے والا استاد جو چاہتا ہے کہ ہر وقت بچوں کو علم سکھاتا