خطبات محمود (جلد 1) — Page 255
۲۵۵ (۲۶) فرموده ۱۶ دسمبر ۱۹۳۶ء بمقام عید گاہ قادیان) دنیا میں دو قسم کی عیدیں ہوتی ہیں ایک عید مستقل عید ہوتی ہے اور ایک عید عارضی عید ہوا کرتی ہے۔عارضی عیدوں کی مثال عید الفطر اور عید الاضحیہ ہیں یہ آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں لیکن ایک لمبے عرصہ کے بعد پھر ایک دن عید کا آجاتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد دوسری عید آجاتی ہے۔ان دونوں عیدوں کا آپس میں تقریباً سوا دو مہینے کا فرق ہوتا ہے اور یوں سال سال کے بعد عید آتی ہے۔رسول کریم ملی لی لی لی لی نے جمعہ کو بھی عید قرار دیا ہے۔لہ اس لحاظ سے ایک عید ہر ساتویں دن بھی آجاتی ہے مگر بہر حال چھ دنوں کے گزرنے کے بعد وہ آتی ہے ہفتہ اتوار ، پیر منگل بدھ اور جمعرات ان دنوں میں جمعہ والی عید نہیں ہوتی بلکہ عید جمعہ کا دن ہے اور جب جمعہ گزر جاتا ہے تو پھر عام دن آجاتے ہیں۔پھر جمعہ آتا ہے اور پھر عام دنوں کا تسلسل شروع ہو جاتا ہے۔بہر حال یہ تینوں قسم کی عیدیں عارضی ہیں مستقل عیدیں نہیں ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے مومن کو یہ سبق دیا ہے کہ اسے اپنے روحانی مقام پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے۔اگر کوئی شخص جمعہ کے آنے پر بھول جائے۔مثلاً طالب علم جمعہ کا دن آئے جو اس کے لئے چھٹی کا دن ہے تو چھٹی ملنے پر بھول جائے اور مدرسہ جانا چھوڑ دے تو دوسرے دن اس کو سزا ملے گی۔ادھر اس کے ماں باپ اسے ناراض ہو کر گھر سے مدرسہ بھیجیں گے اور ادھر استاد اسے سزا دیں گے۔یا عید کا دن آئے اور انسان سمجھ لے کہ بس عید آگئی اور روزے ختم ہو۔اس کے بعد جب پھر رمضان کا مہینہ آئے تو کہے کہ میں اب روزے نہیں رکھ سکتا کیونکہ عید جو آگئی تھی تو ایسا شخص اپنے ایمان کو کھو بیٹھے گا اور خدا تعالیٰ کی نظروں سے گر جائے گا۔غرض یہ عیدیں انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ روحانی مقام بھی عارضی مقام ہوا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ایک احمدی تھے اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔ایک دوست نے سنایا کہ میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ سلسلہ کی ضروریات کے لئے چندہ دیں۔وہ اچھے مال دار آدمی تھے مگر چندے کا ذکر سن کر کہنے لگے میں حضرت صاحب کے زمانہ میں بڑے