خطبات محمود (جلد 1) — Page 251
۲۵۱ بچوں کو قریب کرنے کی جو خواہش پیدا ہوتی ہے اس سے بہت زیادہ خدا تعالیٰ کو خواہش ہے کہ آپ کو اپنے قریب کرے۔ اور تمہارے دل میں بچوں کی دوری پر جو رنج محسوس ہوتا ہے اس سے بہت زیادہ خدا تعالیٰ کو اپنے بندے کی دوری پر رنج محسوس ہوتا ہے۔ کہ یہ خیال مت کرو کہ تم خدا تعالیٰ کو کیونکر پا سکتے ہو کیونکہ اگر صرف تمہارے دل میں خدا تعالیٰ کو پانے کی خواہش ہوتی تو بے شک معاملہ نہایت مشکل ہوتا لیکن یہاں تو معاملہ ہی بالکل الٹ ہے ملنے کی خواہش تو خدا کے دل میں پیدا ہو رہی ہے کہ تم اسے نہیں ڈھونڈ رہے۔ تم اسے تلاش نہیں کر رہے بلکہ وہ تمہیں تلاش کرتا پھرتا ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالی تلاش کرے اور پھر نہ پائے۔ پس اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ اگر تم اپنے تعلقات کی بنیاد خدا تعالیٰ کی محبت پر رکھو تو تم اس وقت سے پہلے نہیں مر سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا قرب تم کو نہ مل جائے۔ اللہ تعالی اس بندے کو جس کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی اس کی محبت ہو کبھی گمراہ نہیں ہونے دیتا ہے بلکہ سارا جہان بھی اگر اسے مارنا چاہے تو وہ اس کی موت کو ملاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے نور کو دیکھ لے اور اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی زیارت کرلے ۔ کیونکہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى و جو کوئی اس دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہی اٹھایا جاتا ہے۔ اگر یہ محبت رکھنے والا شخص خدا تعالیٰ کو دیکھے بغیر مر جائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ وہ اندھا مرا اور اس لئے اگلے جہان میں اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔ مگر اس کے ساتھ اس کے یہ معنی بھی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی محبت بھی اندھی ہو سکتی ہے اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا پس ایسا شخص کبھی بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر نہیں مرتا۔ مگر ضرورت ہے کہ ایمان کی بنیاد محبت پر رکھی جائے اور خوف کو کمزوروں یا کمزور حالتوں کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ ہر انسان کو دن میں ایک وقت یا کم یا زیادہ بار پاخانہ میں جانا پڑتا ہے مگر کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ انسان کی پیدائش صرف پاخانہ پھرنے کے لئے ہوتی ہے۔ پھر تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے بندے کو خوف کے لئے بنایا ہے۔ خوف کی حالت تو بالکل ویسی ہے جیسے انسان کا پاخانہ میں جانا۔ جس طرح پاخانہ کا وقت دو سرے کاموں کے مقابلہ میں تھوڑا اور بے حقیقت ہے اسی طرح خوف رحمت اور محبت کے مقابلہ میں چھوٹا اور بے حقیقت ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کی ضرورت نہیں انسان کو پاخانہ پھرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر پاخانہ اس کا مقصود نہیں۔ اسی طرح ایک ادنی انسان کو گناہوں سے بچانے کے لئے خوف کی بھی ضرورت ہے مگر ایک حقیقی مومن کے ایمان کی اصل 1