خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 252

۲۵۲ بنیاد محبت ہے۔لے اور جب تک کوئی شخص اس نکتہ کو نہیں سمجھتا معرفت کے دروازے اس پر نہیں کھولے جاتے مگر جس پر یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے اس کا قدم ہر وقت آگے بڑھتا ہے اور اس کو کی روحانیت پر کبھی موت نہیں آسکتی اس کی غلطیاں اسے آگے بڑھاتی ہیں اور نیکیاں بھی۔لاہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک بچہ تلاتا ہے اور بولنے میں غلطی کرتا ہے تو ماں بجائے مارنے کے اسے چومنے لگتی ہے۔پس جس بندے کا تعلق خدا تعالیٰ سے محبت کا ہوتا ہے جب اس سے کوئی خطا ہو تو اللہ تعالیٰ کی محبت اور بھی جوش میں آتی ہے اور وہ اسے گودی میں اٹھا لیتا ہے اور پیار کرتا ہے۔کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کا بچہ گر جائے اور وہ اسے مارنے لگے وہ اسے اٹھاتا بلکہ اگر اسے کمزور دیکھے تو گود میں اٹھا لیتا ہے۔پس جب خدا تعالی کا بندہ جو اپنے اندر بچوں والی محبت محسوس کرتا ہے گر جاتا اور گناہ کی ٹھوکر کھاتا ہے تو خدا تعالٰی بھی محبت کرنے والے ماں باپ کی طرح بجائے مارنے کے اسے اٹھا لیتا ہے۔اس کی گرد جھاڑتا ہے اور اسے پیار کرتا اور تسلی دلاتا ہے اور اگر بہت کمزور دیکھے تو محبت کے ہاتھوں میں اسے اٹھا لیتا ہے۔اگر اس کا یہ سلوک نہ ہو تو روحانیت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے اور کوئی انسان خواہ کتنا طاقتور ہو کبھی روحانیت کے میدان میں ایک قدم نہ اٹھا سکے کیونکہ ایک حقیر کیڑے سے بنے ہوئے انسان کی کیا طاقت ہے کہ ازلی ابدی خدا کو ملے۔تلا- اس کا ملنا اسی طرح ممکن ہے کہ ازلی ابدی خدا آپ اس کے پاس آتا اور آپ اسے ڈھونڈتا اور آپ اس کی جستجو کرتا ہے۔پس میں آپ کو آج عید کے دن اس عید کے دن جو اس جلسہ کے بعد آئی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا ہے ، سلا، اس عید کے دن جس میں چاروں اطراف کے احمدی قادیان میں موجود ہیں ، وہ عید جو ۳۶ سال کے بعد ہی پھر آسکتی ہے ، آپ لوگوں کو یہ تحفہ پیش کرتا ہوں ان کے رب کی محبت کا تحفہ۔انہیں چاہئے کہ اسے ادب کے ہاتھوں میں لیں اور دلوں میں رکھ لیں اور آج سے اس یقین پر قائم ہو جائیں کہ ان کا خدا تمام محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرتا ہے پھر وہ دیکھیں گے کہ ان کے دلوں کی حالت بدل جائے گی۔وہ خدا تعالیٰ کو ہر وقت اپنے قریب پائیں گے ان کے دماغوں میں ایک روشنی پیدا ہو جائے گی جو اس سے پہلے انہوں نے نہ دیکھی ہوگی اور ان کے دلوں میں ایسی سکینت پیدا ہوگی جو اس سے پہلے انہوں نے محسوس نہ کی ہوگی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے دوستوں کو اس تحفہ کی قیمت سمجھنے اور