خطبات محمود (جلد 1) — Page 243
۲۳ سے وہ نیچے گر گئے۔ ان کی اس بات پر کہ میں نے رستہ ڈھونڈ نکالا ہے میرے پیچھے پیچھے آجاؤ سے دوست کو اچھا رستہ دکھانے لگے تھے اور رستہ بھر ان سے خوب ہے کہ تم ہم کو سب دوست دل لگی کرتے آئے۔ تو حقیقت یہی ہے کہ علم ہزاروں جہالتوں کا موجب ہے اور جہالت ہزاروں علموں کا اور حقیقی اتحاد کی صورت یہی ہو سکتی ہے ہے کہ کہ عالم عالم ا اپنے آپ کو جاہل سمجھیں اور جاہل عالم اور اس کے لئے انبیاء آتے ہیں کہ اور اس سے حقیقی عید پیدا ہوتی ہے۔ آج چونکہ عید کا دن ہے اس لئے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ دوست آپس میں حقیقی اتحاد پیدا کریں۔ امراء یہ سمجھیں کہ یہ اموال ہمارے پاس امانت ہیں اور خدا نے اس لئے دیئے ہیں کہ اس کے دین کی خدمت اور غرباء کی امداد کے لئے خرچ کریں اور جب تک ان کی یہ ذہنیت نہ ہو ان کے لئے عید نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف غرباء جب تک لَا تَمُدَّنَ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِةٍ لاء پر عمل نہ کریں گے اور للچائی ہوئی نظروں سے دوسروں کے اموال کو دیکھنے کی عادت ترک نہ کریں گے اس وقت تک ان کے لئے عید نہیں ہو سکتی۔ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ دوسروں کی چیزوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور جب تک غرباء میں یہ روح پیدا نہ ہو ان میں وسعت حوصلہ پیدا نہ ہوگی۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ مال کیا چیر ہے۔ صحابہ کے پاس کونسا روپیہ تھا مگر باوجود ا تھا مگر باوجود اس کے انہوں نے ساری دنیا کو دنیا کو فتح کر لیا لیکن ہم ابھی تک اپنے کاموں کے لئے روپیہ کے محتاج ہیں۔ فلاں کام کے لئے ہیں ہزار چاہئے اور فلاں کے لئے دس ہزار ۔ ابھی ہم میں یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ روپیہ کوئی چیز نہیں۔ اب بھی اب بھی اگر چند آدمی ایسے پیدا ہو جائیں جو سلسلہ کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوں اور چاروں اطراف میں پھیل جائیں تو دیکھو کس قدر ترقی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ مشکلات کی پرواہ نہ کریں اگر مانگ کر بھی روٹی کھانی پڑے تو کھالیں۔ اس میں کیا حرج ہے اللہ تعالی کے لئے مانگنا بُرا نہیں۔ سارے انبیاء اللہ تعالی کے لئے مانگتے آئے ہیں۔ جو مانگنا برا ہوتا ہے وہ اپنے نفس کے لئے مانگنا ہے۔ جو گھر پر رہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے لئے مانگتا ہے وہ برا نہیں تو جو تبلیغ کے لئے گھر سے نکلتا ہے اسے اگر مانگنا پڑے تو یہ مانگنا خدا کے لئے کیوں نہ ہو گا اس میں ذلت کوئی نہیں۔ خدا کے لئے ہم اب بھی مانگتے ہیں۔ یہ چندے جو لئے جاتے ہیں یہ بھی خدا کے لئے مانگنا ہی ہے۔ رسول کریم میں یہ جھوٹی لے کر عورتوں میں چلے جاتے تھے کہ لاؤ چندہ دو۔ گاہ ایک عورت نے ایک کڑا اتار کر دیا۔ آپ نے فرمایا ۔ دوسرا ہاتھ بھی آگ سے بچا۔ ها۔ پس دین کے کے لئے