خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 206

۲۰۶ مگر اس کا دل رو رہا ہے، اس کا دماغ پریشان ہے اور اس کی ایک نگاہ اپنے بھائیوں پر پڑتی ہے اور دوسری نگاہ اپنے تاریک دل پر اچھے اور تر لقے اس کے گلے سے نیچے نہیں اترتے اور ہر لقمہ خواہ وہ کتنا ہی تر ہو اس کے گلے میں پھنس پھنس جاتا ہے، وہ آج صبح اچھے کپڑے تو پہن کے آیا مگر باوجود اس کے ہر دفعہ جب اس کی نگاہ اپنے اچھے کپڑوں پر پڑی اس کا دل رو پڑا اس نے کہا کاش میرا اندرونہ بھی ایسا ہی سفید ہو تا جس طرح لباس سفید ہے۔پھر جب اس کی نظر اپنے بھائی پر پڑتی ہے تو بالکل اس طرح جس طرح چور کسی دوسرے شخص کو دیکھ کر ٹھنک جاتا ہے، اس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور وہ خیال کرتا ہے کہ مجھے پکڑنے والا آگیا اور میری چوری پکڑ لی گئی اسی طرح یہ بھی خیال کرتا ہے کہ شاید میرے دل کے گناہ اسے نظر آگئے ، شاید میرے اندرونہ کی تاریکی اسے نظر آنے لگی اور شاید اسے پتہ لگ گیا کہ مجھ میں یہ یہ نقائص ہیں۔ہر دفعہ جب یہ اپنے بیوی اور بچوں اور دوستوں اور ہمسایوں پر نگاہ دوڑاتا ہے اور پھر اپنے نفس پر غور کرتا ہے تو شرمندہ ہو جاتا اور ندامت سے سر جھکا لیتا ہے یہ ظاہر میں خوشی کی مجلس میں شامل ہے مگر اس کا دل اپنے گناہوں کی وجہ سے ندامت اور شرمندگی سے پڑ ہے۔اس جیسے اور بھی کئی گناہگار ہوں گے مگر یہ اپنی ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے خیال کرتا ہے شاید میں ہی ایک ایسا ہوں جسے حقیقی عید میسر نہیں۔وہ حیران ہوتا ہے کہ میں نہ ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا۔نہ ان میں شامل ہوں جو غفلت اور نادانی سے عید منا رہے ہیں اور نہ ان میں شامل ہوں جو وصالِ الہی کی خوشی میں عید منا رہے ہیں۔اس شخص کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوتی ہے جو رسی کے ذریعہ بلند مینار پر چڑھنا چاہتا ہو مگر درمیان میں لٹک رہا ہو وہ زمین پر نہیں کہ اوپر چڑھنے کی امید رکھتا ہو اور اس جگہ نہیں جہاں اس کا پہنچنا ضروری ہے بلکہ درمیان میں لٹکا ہوا ہے۔ممکن ہے ایسے شخص نے ظاہر میں بھی عید نہ منائی ہو اور ممکن ہے اس شخص کے ظاہر نے اس خیال کے ماتحت عید منالی ہو کہ اگر میں اپنے باطن کو اچھا نہیں بنا سکا میں اپنا ظاہر ہی خوبصورت بنالوں۔پھر ممکن ہے اس شخص نے اس خیال سے عید منا لی ہو کہ خدا بڑا ستار ہے اگر میں ظاہر میں عید منالوں تو کیا تعجب ہے خدا مجھے باطن میں بھی عید منانے کی توفیق عطا فرما دے اور کیا تعجب ہے جس طرح خدا نے میرے ظاہر کی ستاری کی ہے اس طرح میرے باطن کی بھی ستاری کرے۔یہ ندامت والے اور نفس لوامہ رکھنے والے بندے ہی زیادہ ہوتے ہیں ان کے لئے عید ولی لحاظ سے سب سے زیادہ صدمے والی ہوتی ہے