خطبات محمود (جلد 1) — Page 201
چل کے آنے والا ہی خدا رسیدہ اور مقبول ہے اسی طرح وہ بھی بیوقوف ہے جو خیال کرتا ہے کہ پھولوں پر سے گذر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آنے والا ہی مقبول ہے۔یاد رکھو جس طرح اللہ تعالی کی مختلف صفات ہیں اسی طرح اس کے پاس پہنچنے کے راستے بھی مختلف ہیں۔بعض لوگ اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بعض برگزیدوں پر اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ یہ کیونکر اللہ تعالی کے برگزیدہ ہو سکتے ہیں جب کہ یہ اچھی چیزیں کھاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ اس مکان کے قریب سے گذر رہے تھے جو مسجد اقصیٰ ملحق ہے۔یہ ڈپٹیوں کا مکان کہلاتا تھا اسے اب خرید لیا گیا ہے اور اس میں سلسلہ کے دفاتر ہیں اس مکان کا مالک جو ہندو تھا اور ڈپٹی رہ چکا تھا حضرت خلیفہ اول سے کہنے لگا میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں اگر آپ ناراض نہ ہوں۔آپ فرماتے ہیں میں نے کہا بیشک دریافت کرو میں ناراض نہیں ہوں گا۔اس نے کہا میں نے سنا ہے آپ کے مرزا صاحب پلاؤ اور بادام روغن بھی کھا لیتے ہیں۔فرمانے لگے میں نے کہا ہاں کھا لیتے ہیں ہمارے ہاں یہ چیزیں پاک اور طیب ہیں اور ان کا کھانا جائز ہے۔اس پر وہ پڑ مُردہ کی صورت بنا کر کہنے لگا کیا فقیراں نوں بھی جائز ہے ؟ آپ فرماتے میں نے کہا ہاں فقیراں نوں بھی جائز ہے تب وہ خاموش ہو گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔تو اس کے نزدیک بزرگی کا یہی معیار تھا کہ عمدہ غذا ئیں نہ کھائی جائیں۔ایک اور ہمارے دوست تھے وہ ایک دفعہ کسی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے۔مجسٹریٹ نے ان سے کہا میں آپ سے ایک مذہبی سوال پوچھنا چاہتا ہوں آپ ناراض تو نہ ہوں گے۔انہوں نے کہا میں کوئی پاگل ہوں جو یونہی ناراض ہو جاؤں ہاں اگر آپ ناراض کرنے والی بات کہیں گے تو ناراض ہوں گا۔مجسٹریٹ نے کئی ایک سوالات کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں نے سنا ہے مرزا صاحب اچھے کھانے کھاتے ہیں۔کہنے لگے مرزا صاحب پاک آدمی ہیں وہ پاک کھانے کھاتے ہیں۔آپ بے شک نجاست کھا ئیں ہم آپ پر کبھی اعتراض نہیں کریں گے۔اس نے اور بھی کئی سوالات کئے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں نے سنا ہے مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر سیر کرنے جاتے ہیں اُس زمانہ میں دستور تھا کہ ہندو عورتیں جب باہر نکلتیں تو ان کے ساتھ کوئی نوکر جسے ٹھملیا کہتے جاتا اور خاوند کا ساتھ جانا معیوب سمجھا