خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 200

بچھڑے ہوئے مل گئے اور عاشق اپنے معشوق کی صحبت میں جا بیٹھا۔اس بندہ کی آج بھی عید ہے اور کل بھی بلکہ ایسے بندہ کی ہمیشہ ہی عید ہے۔اللہ تعالیٰ کے کئی ایسے بندے آج ہماری اس مجلس میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔، پھر کئی ہیں جن کے لباس بوسیدہ ہیں، سکتی ہیں جن کے چہرے پر مردہ ہیں ، کئی ہیں جن کی میں بگڑی ہوئی ہیں کئی ہیں جن کی کمریں جھکی ہوئی ہیں، جن کی آنکھیں نیچی اور جن کی آواز پست ہے۔دیکھنے والا انہیں دیکھ کر نہیں سمجھ سکتا کہ یہ بھی کوئی عید منا رہے ہیں۔ایک اچھے کپڑے پہن کر اور عمدہ کھانے کھا کر آنے والا انسان ان کو دیکھ کر حقارت سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے ان کی بھی کوئی عید ہے حالانکہ عید انہی کی ہے۔جس وقت یہ مغرور اور خود پسند انسان عمدہ عمدہ کھانوں پر اپنا ہاتھ مار رہا تھا، عمدہ اور تر لقے اپنے حلق سے اتار رہا تھا اس وقت اس مسکین غریب اور کمزور نظر آنے والے انسان کو خدا اپنی گود میں لے کر اپنے ہاتھ سے لقمے کھلا رہا تھا۔۔وہ خشک اور سوکھا ٹکڑہ جو اس کے حلق میں گیا یا وہ گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہوا جو اس کے نتھنوں میں پہنچی ، یا وہ کرخت شور جس نے اس کے دماغ کو پراگندہ کرنا چاہا ساری دنیا کی نگاہ میں حقیر اور ذلیل تھا مگر اس غریب اور مسکین کے لئے نہیں کیونکہ یہ چیزیں اسے اپنے محبوب کے ہاتھوں ملیں اور محبوب کا عطیہ دنیا کی تمام چیزوں سے اعلیٰ اور گراں بہا ہوتا ہے۔پھر ہماری مجلس میں وہ بھی ہیں جن کے ظاہری لباس بھی اچھے ہیں، جنہیں کھانے بھی اچھے نصیب ہوئے ، جن کو سنت نبوی کے مطابق عطر و خوشبو لگانے کا بھی موقع ملا کہ اور ان ظاہری زیب و زینت کی چیزوں کے ساتھ ہی باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کا وصال بھی ان کو حاصل ہوتی گیا۔جس طرح اس غریب اور مسکین بندہ کے منہ میں جسے اللہ تعالٰی نے اپنے حضور قبولیت عطا فرمائی خدا نے اپنی نہاں در نہاں مصلحتوں اور حکمتوں کے ماتحت سوکھی روٹی کا ٹکڑہ ڈالا اسی خدا نے اپنی ایک اور مصلحت کے ماتحت اپنے ایک اور بندہ کے منہ میں نرم نرم اور اعلیٰ غذا ڈالی۔یہ اس کی مصلحتیں ہیں اور نادان ہے وہ جو ان مصلحتوں پر اعتراض کرے خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے کسی بندے کو کس نظر سے دیکھوں۔اس کی ازل سے یہی سنت چلی آتی ہے کہ وہ اپنے کسی بندہ کو کانٹوں پر سے گزارتے ہوئے اپنے پاس بلاتا ہے اور کسی کو پھولوں کی سیج پر سے گذارتے ہوئے اپنے پاس جگہ دیتا ہے۔وہ بیوقوف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کانٹوں پر سے ہے