خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 199

١٩٩ پڑی ہے کہ سحری کے وقت اٹھتی ہے۔اس نے کہا بی بی میں نماز نہیں پڑھتی ، روزہ نہیں رکھتی کیا سحری بھی نہ کھاؤں اور کافر ہی ہو جاؤں۔گویا اس کے نزدیک اسلام کے تین رکن تھے۔نماز روزہ اور سحری کھانا اگر پہلے دو رکن نماز اور روزہ چھوٹ جاتے ہیں تب تو اسلام رہتا ہے لیکن اگر تیسرا رکن سحری کھانا چھوٹ جائے تو انسان کا فر ہو جاتا ہے یہ ہے تو لطیفہ لیکن اگر غور کیا جائے تو بہت لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔نمازیں وہ نہیں پڑھتے، روزے وہ نہیں رکھتے ، مگر عید میں سب سے زیادہ خوشی مناتے بلکہ سب سے پہلے آکر شامل ہو جاتے ہیں۔وہ عید مناتے ہیں اور پوری طرح مناتے ہیں، نہاتے ہیں ، اچھے کپڑے پہنتے ہیں ، بناؤ سنگھار کرتے ہیں ، خوب کھاتے پیتے ہیں گویا جو کمی نمازوں اور روزوں کی وجہ سے ان کے ایمان میں رہ گئی تھی اسے عید کے روز کھانے پینے اور عمدہ کپڑے پہننے سے پورا کرنا چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کے ارکان کو پورا کر لیا۔لیکن اس قسم کے دھوکوں کے ساتھ خدا تو دھوکے میں نہیں آسکتا اور نہ ہی ہمارے نفس کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔پس ہمیں اپنے دلوں میں غور کرنا چاہئے کہ ہم لوگ کس قسم میں سے ہیں اور ہماری عید کیسی ہے۔سو یا د رکھو عموماً عید تین قسم کی ہوا کرتی ہے۔ایک عید تو اس شخص کی ہے جس نے اپنے رب سے ملنے کی کوشش کی ، اخلاص سے عبادت کی محبت الہی سے خدا کے بندوں کی خدمت کی صفائی قلب سے اس نے خدا سے اور اس کے بندوں سے صلح کی اس نے نمازیں پڑھیں اور صرف خدا کے لئے پڑھیں ، دکھاوے کے لئے نہیں اس نے روزے رکھے اور صرف خدا کے لئے رکھے لوگوں میں روزہ دار مشہور ہونے کے لئے نہیں اس نے ذکر الہی کیا اور محض خدا کے لئے کیا لوگوں کے خوش کرنے کے لئے نہیں، اس نے صدقہ و خیرات دیا اور اس لئے دیا کہ خدا کی رضا حاصل ہو لوگوں پر احسان جتانے یا نیک نامی حاصل کرنے کیلئے نہیں، اس نے حج بھی کیا مگر سیر کرنے کیلئے یا لوگوں میں حاجی کہلانے کے لئے نہیں بلکہ محض اس لئے کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے اس نے دین کی تبلیغ کی مگر اس لئے نہیں کہ وہ بڑا مبلغ کہلائے اور لوگ اس کی تعریف کریں بلکہ اس نے ایک ایک لفظ جو اپنی زبان سے نکالا اس خیال اور یقین کے ماتحت نکالا کہ خواہ لوگ میری تعریف کریں یا مذمت میں بہر حال وہی کہوں گا اور کہتا چلا جاؤں گا جس کا خدا نے مجھے حکم دیا ایسے شخص نے اپنے خدا کو پا لیا اور اس کے خدا نے اس گم گشتہ بندے کو ڈھونڈ لیا جدائی اور فراق کی گھڑیاں کٹ گئیں