خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 198

۱۹۸ تب بھی کم از کم ان کے دو چار آنے ضرور خرچ ہو جاتے ہیں تو جس عید پر ہمیں خرچ کرنا پڑتا ہے اور جو ہمیں کچھ دے کر نہیں جاتی وہ تو عید نہیں ہو سکتی۔ عید تو وہ ہے جو کچھ ہمیں دے کر جائے اور وہ عید در حقیقت باطنی عید ہی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ اس کامیابی کو دیکھ کر ہمارے دلوں میں جو خوشی پیدا ہوتی ہے اس کی ظاہری علامت اللہ تعالیٰ نے عید رکھی ہے۔ یہ علامت اللہ تعالیٰ نے روزہ داروں کے مہینہ بھر کے روزوں کے قبول ہونے کی قرار دی ہے ۔ لو یہ علامت اس بات پر شہادت مقرر کی ہے کہ ان کے روزے قبول ہو گئے۔ پس روزوں کے مقبول ہونے کے خیال سے اس عید پر لوگ خوشی مناتے ہیں اور وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عبادت کی توفیق عطا فرمائی مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعہ میں خدا نے ہمیں اپنی عبادت کی توفیق دی اور کیا واقعہ میں ہماری وہ عبادت قبول بھی ہو گئی۔ اگر ہمیں عبادت کی توفیق ملی ہے تو بھی ہمیں کیا پتہ کہ ہماری وہ عبادت قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں کیونکہ کئی عبادتیں قبول نہیں ہوتیں۔ رسول کریم ملی ایم کے سامنے ایک شخص نے جلدی جلدی نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوا تو رسول کریم میں ہم نے فرمایا پھر نماز پڑھو کیونکہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی۔ اس نے پھر جلدی جلدی نماز پڑھی۔ رسول کریم م نے پھر فرمایا کہ پھر نماز پڑھو تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی۔ اس نے پھر اس طرح نماز پڑھی اور جب رسول کریم میں ہم نے پھر نماز پڑھنے کے لئے کہا تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کس طرح نماز پڑھوں۔ آپ نے فرمایا آہستگی اور سکون کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے۔ کتب نماز قبول ہوتی ہے۔ پس جس طرح نمازیں قبول نہیں ہوتیں اسی طرح بعض روزہ داروں کے روزے بھی قبول نہیں ہوتے پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیماریوں اور معذوریوں کی وجہ سے روزے رکھنے کی توفیق ہی نہیں ملتی اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو باوجود طاقت کے روزے نہیں رکھتے مگر عید میں یہ تمام لوگ جو بالکل مختلف اقسام کے ہیں شامل ہو جاتے ہیں بلکہ ایسے لوگ سب سے پیش پیش ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک لونڈی تھی جو رمضان کے دنوں میں با قاعدہ اٹھ کر سحری کھایا کرتی مگر روزہ نہیں رکھا کرتی تھی۔ ایک دن اس کی مالکہ نے اسے کہا تو روزانہ سحری کے وقت اٹھتی ہے اور سحری کھانے کے باوجود روزہ نہیں رکھتی تجھے کیا ضرورت