خطبات محمود (جلد 1) — Page 192
۱۹۲ معلوم ہو تا تھا کہ آپ دیکھتے ہیں ان میں سے حلال کو نسا ریزہ ہے اور حرام کونسا اور ساتھ ہی ساتھ سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے۔اصل بات یہی ہے کہ اولیاء اللہ کا ہر کام ہر وقت خدا تعالی کے لئے ہی ہوتا ہے اور ان کے لئے ہر وقت ہی عید ہوتی ہے۔مگر اکثر بندے چونکہ غافل ہوتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ کچھ دن مجاہدہ کے رکھ دیئے اور پھر کہا۔آج تمہارے اس مجاہدہ کی تکمیل میں تمہاری خوشی میں ہم بھی خوشی مناتے ہیں۔پس یہ عید ہے مومن کی اور اس کی حقیقی غرض یہی ہے کہ مومن یقین کر لیتا ہے کہ آج مجھے خدا مل گیا ہے اور آج میں جو کھانا کھاتا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہے۔اور غور کرو ایسا طیب کھانا کھانے سے جو خدا تعالٰی کھلائے کس قدر طیب خون پیدا ہو گا اور پھر اس سے کتنے بلند حوصلہ اور امنگیں پیدا ہوں گی۔لوگ کہا کرتے ہیں یتیم بچے کو خواہ کتنی مرغن اغذیہ کھلائی جائیں وہ اس طرح نہیں پنپ سکتا جس طرح ماں کے ہاتھ سے سوکھی روٹی کھانے والا۔گویا ماں کے ہاتھ سے جو سوکھی روٹی کھائے اس میں بہت طاقت ہوتی ہے۔پھر غور کرو۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خوراک میں کس قدر قوت ہو گی۔مگر اکثر لوگ اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اس طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔اور ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے خدا تعالیٰ رات کو بارش تو کر دے مگر زمیندار گھر میں سویا رہے اور اس کے کھیت سے پانی نکل کر بہہ جائے۔پس اس نکتہ کو نہ سمجھ کر کہ آج کے دن خدا تعالی کھلاتا ہے لوگ اپنی غفلت سے اس طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں جو انہیں حاصل ہونی چاہئے۔لیکن اگر وہ اسے سمجھ کر اس طاقت کو اپنے اندر جمع کر لیں تو ان کے اندر بجلی کا ایسا خزانہ جمع ہو جائے جو سارا سال کام دے اور اگلے سال پھر اور مل جائے۔خدا آتا تعالیٰ کی طرف سے ہر چیز ضرورت اور حکمت کے مطابق دی جاتی ہے۔قرآن کریم میں ہے۔وَإِنْ مِّنْ شَيْ ءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ۲۸ پس عید کے دن جو طاقت خدا تعالیٰ انسان کو دیتا ہے وہ اس کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اسے اپنے اندر جمع رکھے۔ہر شخص اپنے درجہ اور شان کے مطابق اپنے شاگرد سے امید رکھتا ہے۔اور جسے خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے کھلائے پلائے اس سے کیسے بہادری اور جاں نثاری کے کاموں کی امید ہونی چاہئے۔بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں سے اپنے ہی جیسے کارناموں کی توقع رکھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں جسے ہم نے ورزش کرائی ہے کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمارے برابر کا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا ثانی تو کوئی نہیں ہو سکتا مگر اس