خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 193

۱۹۳ کے مظہر ہوتے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ آج کے دن جسے خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہے وہ ضرور اس کا مظہر بنے اور سارا سال اس سے اس کی صفات کا اظہار ہو تا رہے۔بے شک خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے کھانا بہت بڑی نعمت ہے مگر اس کی شان کے مطابق ہی پھر قربانی بھی کرنی ضروری ہے۔پرانے زمانے میں قاعدہ تھا کہ بادشاہ جن امراء پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے تھے انہیں اپنے دستر خوان سے کچھ بھجوا دیتے۔اسے اُلش کہا جاتا تھا۔پھر اس عزت افزائی کے بدلہ میں امراء بھی اپنی شان اور حیثیت کے مطابق قربانی کرتے تھے۔کوئی لاکھ کوئی دو لاکھ کوئی دس لاکھ یا جتنی کسی کی توفیق ہوتی ، صدقہ دیتا۔۲۹ے اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ وہ بادشاہ کے انعام کی قدر کرتا ہے۔جب بادشاہوں کی خوشنودی کے لئے لاکھوں کی قربانی کی جاتی تھی تو آج جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے الش آیا اگر اس کے بدلہ میں اس کی جان بھی چلی جائے تو اس انعام کے مقابل میں یہ قربانی کیا حیثیت رکھتی ہے۔کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ براہمن تو اس وقع پر بیوقوفی سے جانیں قربان کر دیتے ہیں مگر ہم اس کے فوائد انعامات اس کی غرض و غایت اور حکمتوں کو سمجھتے ہوئے اس سے دریغ کریں۔ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہم عہد کریں۔اے خدا تیرے جیسی بلند و بالا ہستی جب ہمارے جیسے ذلیل و حقیر بندہ کو کھلاتی ہے تو پھر ہم بھی تیری خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر واقعہ میں ہم یہ نیت کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ضعف نہیں پہنچا سکتی کیونکہ جو خدا کی قربانی کا بکرا بن جائے کسی انسان کی طاقت ہے کہ اس پر چھری چلا سکے ؟ پس جو خدا کی قربانی ہے وہ سارے انسانوں کی چھریوں سے محفوظ ہو گیا۔اس کے لئے نئی زندگی ہے جسے کوئی برباد نہیں کر سکتا۔پس میں سمجھتا ہوں اگر ہر مومن عید کی اغراض کو مد نظر رکھے تو بہت فوائد حاصل کر سکتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس شاہی نعمت اور عزت افزائی کو سمجھ سکیں اور پھر اس کی قدر بھی کر سکیں۔باقی دنیا بھی کھاتی پیتی ہے اور اگر ہم مومن نہ ہوتے تب بھی کھاتے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ جو کام ہم نے اپنی مرضی سے کرنا تھا وہ کہتا ہے آج اسے میری خاطر کرو۔یہ کتنا بڑا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کے اس احسان کی قدر جائیں اور اس نعمت کے بدلہ میں بادشاہی الشوں سے بہت بڑھ چڑھ کر قربانی کر سکیں۔(الفضل ۲۸۔فروری ۱۹۳۱ء) متی باب ۹ آیت ۱۰ تا ۱۵