خطبات محمود (جلد 1) — Page 182
IAF (۲۰) فرموده ۲۰ فروری ۱۹۳۱ء بمقام عید گاہ۔قادیان) انسانی اعمال کا دائرہ کسی زمانہ میں بہت وسیع ہوتا ہے اور کسی زمانہ میں بہت تنگ ہو جاتا ہے۔یعنی بعض اوقات تو اگر انسان چاہے تو کئی قسم کے کاموں میں اپنے آپ کو مشغول کر سکتا ہے اور کبھی اس کا دائرہ عمل محدود ہو جاتا ہے اور وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ خاص قسم کے کام کی طرف ہی توجہ کرے یا اس کی طرف ضرور توجہ کرے۔ہم دیکھتے ہیں ایک گھر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔گھر میں مرد بیوی، بچے اور بعض دفعہ بعض اور رشتہ دار بھی ہوتے ہیں۔مردوں میں سے کوئی باہر زراعت کرتا ہے، کوئی تجارت کوئی صنعت و حرفت کا کوئی کام کرتا ہے، عورتیں گھر میں سینے پرونے کا کام کرتی ہیں ، کھانا پکاتی ہیں گھر کی صفائی کرتی ہیں ، بچوں کو نہلاتی اور ان کے کپڑے وغیرہ دھوتی ہیں، سہیلیوں سے باتیں کرتی ہیں اور اگر کوئی پڑھی لکھی ہو تو وہ مطالعہ بھی کرتی ہے۔بچوں میں سے بعض سکول جاتے ہیں جب وہاں سے آتے ہیں تو اپنی پڑھائی کرتے ہیں۔چھوٹے بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں۔گویا گھر ایک ہوتا ہے مگر اس میں بسنے والے ہر ایک فرد کے مشاغل مختلف ہوتے ہیں۔پھر ایک آدمی بھی مختلف اوقات میں مختلف کام کرتا ہے۔کبھی کھاتا ہے، پیتا ہے، کبھی کماتا ہے ، کبھی بیوی بچوں سے باتیں کرتا ہے، کبھی سوتا ہے لیکن یہی گھر جس کے مختلف افراد مختلف اوقات میں مختلف کاموں میں لگے ہوتے ہیں۔اس کی مالکہ یا مالک اگر خطرناک طور پر بیمار ہو جائے تو اس میں رہنے والوں کے کاموں کی ساری تنویع یکدم بند ہو جاتی ہے۔بیوی کی بیماری پر خاوند اگر زمیندار ہے تو زمینداره کام ملتوی کر دیتا ہے، اگر تاجر ہے تو دکان بند کر دیتا ہے ، اگر ملازم ہے تو رخصت لے لیتا ہے اور اس کے سامنے صرف ایک شغل یہ رہ جاتا ہے کہ اپنی بیوی کی تیمار داری کرے۔بچے اگر ماں بہت زیادہ بیمار نہیں تو بدر سے تو جاتے ہیں مگر کھیل کو د کا وقت اس کی خبر گیری میں صرف کرتے ہیں۔چھوٹے بچے گو کھیل کود میں تو مصروف رہتے ہیں مگر ان کی حرکات سے صاف پتہ لگ سکتا ہے کہ ان کا دل اس میں نہیں لگ رہا اور ان کی توجہ بار بار اپنی بیمار ماں کی طرف جاتی ہے۔گویا