خطبات محمود (جلد 1) — Page 165
۱۶۵ ثابت ہے کہ انبیاء کی بعثت عید ہوتی ہے اور انبیاء دنیا میں ترقی اور خوشی پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں وہ اس لئے آتے ہیں کہ ظالموں کو گرا دیں اور مظلوموں کو اونچا کر دیں ، کھوئی ہوئی عزتوں کو دوبارہ قائم کر دیں اور گئی ہوئی شوکت کو واپس لائیں، مصائب زدہ لوگوں کو بچائیں۔لیکن جب تک لوگ خود اپنے اندر یہ خواہش نہ پیدا کریں کہ ان سے فائدہ اٹھا ئیں اس وقت تک انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔انبیاء کے آنے پر کچھ لوگ تو ان کا بالکل ہی انکار کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔اکثر مخالفین کہا کرتے تھے بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک شخص نے پیسہ اخبار میں مضمون لکھا کہ یہ اچھا نبی آیا ہے کہ دنیا پر مصائب ہی مصائب نازل ہو رہے ہیں کہیں طاعون ہے کہیں قحط ہے لیکن بات تو وہی ہے کہ عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔" خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر عید کا موقع پیدا کر دیا اب اگر تم دروازے بند کر کے رونے پیٹنے میں لگے رہو تو تمہارے لئے وہ کسی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کے مامور دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں جس کا ایک سرا ماننے والوں کے لئے ہوتا ہے جو ان کے ہر قسم کے رنج و غم کا تا چلا جاتا ہے۔اور ایک نہ ماننے والوں کے لئے ہوتا ہے جو ان کی خوشی اور راحت کو کاٹتا ہے۔وہ ایک طرف بشارت کا اعلان ہوتے ہیں تو دوسری طرف تباہی و بربادی کا۔ان کے آنے سے عالم قیامت برپا ہو جاتا ہے۔وہ بشیر و نذیر ہوتے ہیں۔نہ وہ اپنی ذات میں تو عید ہی ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے ان کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔جو قبول کر لیتے ہیں ان کے لئے عید ہو جاتی ہے لیکن جو نہیں مانتے ان کا اس عید کے موقع پر بھی روزہ ہی ہوتا ہے اور رسول کریم میل و سلم نے فرمایا عید کے دن روزہ رکھنا شیطان کا کام ہے۔کہ آگے جو ماننے والے ہوتے ہیں وہ بھی ان دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتے۔ان میں سے اکثر تو ان ذمہ داریوں کو اپنے پر قبول کر لیتے ہیں جو خدا تعالیٰ ان پر ڈالتا ہے اور اپنے لئے عید کر لیتے ہیں لیکن جو ان ذمہ داریوں کو قبول نہیں کرتے ان کے لئے کوئی عید نہیں ہو سکتی کیونکہ عید کے لئے قربانی نہایت ضروری چیز ہے۔عید ہمیشہ قربانیوں کے بعد ہوا کرتی ہے۔عید بھی روزوں کے بعد ہوتی ہے جو بہت بڑی قربانی ہوتی ہے اور عید الاضحیٰ بھی خدا کے لئے