خطبات محمود (جلد 1) — Page 157
۱۵۷ نے کچھ نہیں مانگا آپ ہی آپ ہمارے لئے دعا کی گئی ہے۔ پس ہمارے لئے مائدہ کا وعدہ تو ہے مگر عذاب کا نہیں۔ اس وجہ سے ہماری عید حضرت مسیح ناصری کی عید سے زیادہ کامل اور مکمل ہے۔ مگر افسوس ہے کہ جماعت کے لوگوں نے ابھی تک اس کی پوری پوری قدر نہیں کی اور بہت کم ہیں جو اس مائدہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ نازل ہو اللہ اور جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ کچی خوشی کچی امید سے پیدا ہوتی ہے۔ یقین کو دل سے نکال دو ہر وقت دوزخ میں انسان رہے گا۔ امید کو نکال دو کبھی خوشی نہ حاصل ہو سکے گی کیونکہ خوشی امید اور یقین سے حاصل حاص ہوتی ہے۔ حتی کہ چھوٹے بچے بھی اس عید سے خوشی پاتے ہیں۔ میں نے کسی جگہ پڑھا ہے ایک عورت اور اس کا چھوٹا سا بچہ تھا۔ عورت بیمار ہوئی اور مکان کے اندر مر گئی۔ جب دیر تک اس کا دروازہ نہ کھلا تو ہمسائیوں نے دروازہ توڑ کر کھولا اور دیکھا کہ ماں مری ہوئی ہے اور بچہ اس سے کھیل رہا ہے۔ چونکہ بچہ کو یہی یقین تھا کہ اس کی ماں زندہ ہے اس لئے اس سے کھیل رہا تھا حالانکہ اس کا یہ یقین جھوٹا تھا۔ جب جھوٹی امید اور یقین بھی انسان کے لئے خوشی اور مسرت پیدا کر دیتا ہے تو جسے سچا یقین ہو کہ دنیا میں میں غالب ہوں گا خدا تعالیٰ نے میرے لئے برکات رکھی ہیں وہ کبھی غمزدہ نہیں ہو سکتا۔ ایک تھکا ہوا مسافر جس کے لئے ایک قدم چلنا بھی مشکل ہو اسے اگر معلوم ہو کہ اس کا ۲۰-۳۰ سال کا چھٹا ہوا کوئی عزیز آدھ میل کے فاصلہ پر ہے تو پھر دیکھو اس میں کیسی بشاشت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر جس کے گھر ماتم ہوا ہو اُسے گھر سے نکلتے ہوئے بھی مصیبت معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ جو تھکا ہوا ہونے کے باوجود بشاش اور طاقتور ہو جاتا ہے اس کے دل میں امید پیدا ہو گئی ہے اور جو گھر سے نہیں نکل سکتا وہ ناامیدی کا شکار ہوا ہے۔ غرض امید اور یقین ہی حقیقی عید لاتا ہے اور یہ امید اور یقین ہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے ۔ ملاء اس سے ایسی عید پیدا ہوتی ہے جو دنیا میں کسی کے لئے نہیں۔ اس وقت یورپ گھبرا رہا ہے کہ ایشیاء بیدار ہو رہا ہے نہ معلوم اب کیا حالت ہو جائے گی۔ سینکڑوں سال سے یورپ ایشیا کو ٹوٹ رہا ہے۔ یہاں سے نہایت سستی روٹی لے جاتے اور نہایت گراں کپڑا لا کر فروخت کرتے ہیں۔ ایک روپیہ کی چیز لیتے ہیں اور اس کے پھر دس وصول کرتے ہیں۔ اس طرح اہل یورپ نے بے شمار دولت جمع کر لی ہے مگر اب گھبرا رہے |=