خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 137

۱۳۷ تک اسے قبول کرنے کے لئے قلوب تیار نہ ہوں۔جتنے لیکچر اب تک ہو چکے ہیں اتنے کسی نبی کے زمانہ میں نہیں ہوئے ہوں گے مگر ان کا اثر اتنا ظاہر نہیں ہوا جتنا ہونا چاہئے تھا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ سننے والوں میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ یہ باتیں دوسروں کے لئے ہیں۔اس وجہ سے سب کے سب خالی رہ جاتے ہیں اور کسی کے برتن میں بھی پانی نہیں پڑتا۔دوستوں کو چاہئے کہ اپنی حالتوں میں تغیر پیدا کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جو بات بتائی جاتی ہے وہ ان کے لئے ہی ہوتی ہے۔اس کے بعد اب میں دعا کرتا ہوں سب احباب اس میں شامل ہوں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ایسی اصلاح کر دے جو اس زمانہ کے کام کے لئے ضروری ہے اور جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بچے پیارے اور مقرب بندوں میں ہونی چاہئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی صفحه ۲۵ مطبوعه الشركته الاسلامیه ربوه (الفضل ۵ مئی ۱۹۲۵ء) ه در محفل خود راه مده بچو سنے را - افسردہ دل افسرده کند انجمن را (غنی کاشمیری) پیدائش باب ا آیت ۲۶ الحج : ١٩ ه البلد : ا ق : ۱۸ تا ۳۵ الانفال : ٣ بخارى كتاب الرقاق باب الرجاء مع الخوف که مسلم كتاب التوبة باب في سعة رحمة الله يوسف : ٨٨ یہ حضور کے سفر انگلستان ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے۔اس بارے میں مکرم محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تحریر فرماتے ہیں۔” ویمبلے کی نمائش میں بعض فوجی مناظر سٹیج کئے جاتے تھے حضور شائد دو بار ہی نمائش میں تشریف لے گئے تھے ممکن ہے تین بار تشریف لے گئے ہوں۔صرف ایک بار خاکسار کو حضور کی خدمت میں ساتھ جانا یاد ہے۔اس وقت جو منظر سیج کیا گیا وہ فوجی تھا۔بحری منظر کا دکھایا جانا خاکسار کو یاد نہیں۔فوجی منظر کے دیکھنے کے بعد حضور نے فرمایا لوگ تو منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور تالیاں پیٹ رہے تھے اور میں اس فکر میں تھا کہ جس قوم کی یہ روایات ہیں ہم اس کا مقابلہ کیسے کر سکیں گے۔(مکتوب بنام