خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 133

١٣٣ آپ اسے تسلیم کر لیتے ہرگز نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو اس سے رسول کریم ملی کو سخت غصہ آتا۔تو مومنوں کے غم اپنے اندر خوشیاں رکھتے ہیں۔ان کے غم اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ اگر ساری دنیا کے کافروں کے غم بھی جمع کئے جائیں تو ان کے غم کے برابر نہیں ہو سکتے مگر وہ غم مزیدار بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ساری دنیا کی خوشیاں جمع کر کے دے دی جائیں تو بھی وہ ان غموں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس غم کی وجہ سے وہ اپنے محبوب کے قریب ہوتے اور اس کی رضا حاصل کرتے ہیں۔غم کی گھڑی میں ان کے آنسو کا قطرہ وہ دریا ہوتا ہے جس میں وہ کشتی چلتی ہے جو انہیں خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتی ہے۔اور ان کا غم جو خون خشک کر دیتا ہے اس سمندر کو سکھا دیتا ہے جو انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان حائل ہوتا ہے۔پس غم مومن کو ہوتا ہے اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ مومن افسردہ نہیں ہو تا تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اسے غم نہیں ہوتا۔جو شخص غم نہیں کرتا میں اسے مومن ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔مومن وہی ہے جس کا دل غمگین اور فکر مند ہو اور جتنا کوئی بڑا مومن ہو گا اتنا ہی زیادہ غمگین ہو گا مگر باوجود اس کے مومن کبھی افسردہ دل نہیں ہوتا، کبھی ہمت نہیں ہارتا اس کے چہرہ پر کبھی مُردنی نہیں چھاتی ، وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا اور جب سب سے زیادہ خطرہ کا وقت ہوتا ہے اس وقت سب سے زیادہ ہوشیار اور سب سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے اندر ایسی قوت پیدا کی ہوتی ہے کہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سمجھتا کہ میں پس جاؤں گا۔اور خواہ غموں کے پہاڑ بھی اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں پھر بھی اس کی قوت کے سامنے حقیر ہوتے ہیں۔پس عید ہم کو یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلم کا رویہ کیا ہونا چاہئے یا یوں کہنا چاہئے کہ عید ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خوشی کا پیدا کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور جو قوم مشکلات اور تکالیف کی وجہ سے مایوس ہو جاتی ہے وہ کافروں میں داخل ہو جاتی اور خدا تعالیٰ کی مدد سے محروم ہو جاتی ہے۔لیکن جس طرح ہر شخص عید کے دن خوش ہوتا ہے اسی طرح ہم جو خدا تعالیٰ کے ایک نبی اور مرسل کی جماعت ہیں یہ کہیں کہ نبی کے زمانہ میں ہم خوش ہی رہیں گے اور کبھی اور کسی حالت میں ہمت نہ ہاریں گے اور ساری دنیا کو فتح کرلیں گے تو جس طرح آج خوش ہو گئے ہیں اس سے بہت زیادہ خوشیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور جس طرح آج عید کے دن ہماری طبیعت خوشی کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور اگر کوئی غم کی بات ہو بھی تو