خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 12

: ۱۲ بڑی بڑی خوشیوں اور شادیوں کے موقعوں پر لوگ جاتے ہیں اور خوشی میں حد سے گزر جاتے ہیں اور شریعت کے احکام کو توڑتے ہیں لیکن بیویاں ایسی آتی ہیں کہ وہ گھر میں امن کی بجائے فساد کا موجب ہو جاتی ہیں۔ اور بعض ، بعض بد کاریاں کر کے اس گھر کی بدنامی کا باعث ہو جاتی ہیں۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک خوشی جسے انسان طلب کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی نہ ہو۔ ممکن ہے انسان خدا کو ناراض کر کے خوشی کے بدلے دُکھ خرید لے۔ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہی بتلایا ہے۔ پہلے مسیح کے حواریوں نے مسیح سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ نہیں آسمان سے مائدہ ملے۔ ہم کو دولت مل جاوے تا کہ یہ جو آئے دن چندے لگے رہتے ہیں ان سے چھٹی ہو اور آرام سے ہم خرچ کر سکیں گے اور پھر ہم خوب دل کھول کر عبادت بھی کر سکیں گے کیونکہ بے فکر ہوں گے ۔ حضرت مسیح نے فرمایا ۔ یہ دولت مت طلب کرو۔ جو اللہ دیتا ہے اسے لو۔ انسان ایک وقت میں ایک چیز کو مفید خیال کر کے طلب کرتا ہے لیکن وہ اس کے لئے دُکھ کا موجب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا۔ ہم نیک ارادے سے طلب کرتے ہیں۔ حضرت مسیح نے ان کے لئے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ میں دوں گا تو سہی لیکن جو شخص پھر اس کی ناشکری کرے گا تو میں اسے ایسا خطرناک عذاب دوں گا کہ اور کسی کو ایسا خطرناک عذاب نہ ملے گا۔ خدا تعالیٰ کا معمولی عذاب بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک بہادر سے بہادر آدمی کو ذرا سر میں درد ہو یا پیٹ میں درد ہو تو اسے گرا دیتی ہے ۔ ہمارے موجودہ بادشاہ وہ کے والد ایڈورڈ ہفتم ملے کا جشن تاجپوشی ہونے والا تھا۔ پیٹ میں پھوڑا تھا۔ باوجود اس کے کہ ہر طرح کی تیاریاں کر چکے تھے مگر خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت سر جھکانا پڑا اور جشن ملتوی کرنا پڑا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں بادشاہ بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ غرض انسان کو بہت سی خوشیاں پہنچتی ہیں لیکن ان میں سے بہت سی خوشیاں اصل میں خوشیاں نہیں ہوتیں بلکہ آخر کار مصیبت ثابت ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے ہم دیں گے تو سہی مگر ایسا نہ ہو تم نا فرمانی کرو۔ تو میں پھر تم کو ایسا خطرناک عذاب دوں گا کہ کسی کو نہ دیا ہو گا۔ اب اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ ایک جگہ اس عذاب کو آسمان کے پھٹ جانے لاء