خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 13

f 2 श مشابہت دی ہے۔ایک معمولی ستارہ زمین پر گر جاوے یا سورج یا چاند ہی زمین پر گر جاویں سے تو تہلکہ مچ جاوے تو جب تمام نظام ہی درہم و برہم ہو جاوے تو اس وقت کیا حالت ہو گی۔اب اس زمانہ میں ایک ایسی لڑائی کا شروع ہوئی ہے کہ پہلے اس کا نمونہ نہیں ملتا۔صحابہ کے زمانہ میں جنگ ہوتی تھی، تیروں کی جنگ۔بعض صحابہ کو تیر لگا ہوا ہے اور نماز پڑھ رہے ہیں۔ساہ اُس وقت وہ لوگ باوجو د زخموں کے کام بھی کر سکتے تھے مگر اب خطرناک سے خطرناک سامانوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے اور یہ ایک خطرناک عذاب ہے۔خطرناک قسم کے گولے جو آدمی تو کیا ہستی رکھتا ہے بڑی بڑی دیواروں اور قلعوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔اور ہم ہوائی جنگی جہاز بڑی بڑی طاقت کی مشین والی تو ہیں ، بڑے بڑے جنگی جہاز ہیں جن کے ذریعے سے لڑائی کرتے ہیں۔تو یہ سامان جو آج کل لڑائیوں میں نظر آتے ہیں۔یہ دنیا میں آج تک نہیں پائے گئے اور ایسے ایسے خطر ناک سامان ہیں کہ ان سے بچنا نا ممکن ہوتا ہے۔عجیب عجیب قسم کی بندوقیں اور کروزر (CRUISER) اور اس قدر لڑائی کے سامان اکٹھے ہوئے ہیں کہ : انسان کے خیال میں بھی نہیں آسکتے تھے۔پہلے آج تک کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی۔کہتے ہیں کو رو چھیتر ۱۴ کے میدان میں کئی لاکھ آدمی مارے گئے حالانکہ اس میدان میں لاکھ دو لاکھ آدمی بھی سما نہیں سکتا۔یورپ کہتا ہے کہ ہم نے لڑائی کے سامان ایجاد کئے۔ہم نے تو ہیں بنا ئیں ، ہم نے بندوقیں بنائیں ، ہم نے جنگی جہاز بنالئے اور کروزر (CRUISER) بنائے۔ہم کہتے ہیں۔یہ بالکل ٹھیک ہے ایسا ہی ہے۔لیکن یہ خدا کا فرمان پورا ہو رہا ہے۔تمہاری ایجادیں قرآن کریم کی آیت کی تصدیق کرتی ہیں۔چنانچہ اب یورپین اخبارات خود اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ یہ لڑائی ایسی ہے کہ ایسی لڑائی اور خونریزی اس میں ہونیوالی ہے کہ آج تک کبھی نہیں ہوئی۔گویا وہی سامان ان کے لئے دُکھ کا موجب بن گیا۔تو خوب یاد رکھو کہ انسان کو بڑی خوشیاں ہوتی ہیں لیکن وہ اس کے عذاب اور دکھ و تکلیف کا باعث ہو جاتی ہیں۔آج بھی ایک عید کا دن ہے۔لوگ خوشی میں ہیں کہ عید آگئی اور بڑے خوش ہو رہے ہیں۔ها۔قرآن کریم جیسی پاک کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۵له جیسا پاک انسان اس سے استنباط کرنے والا۔آپ نے ایک عید کا دن بنایا۔لوگ تو خوشیوں میں اپنے فرضوں کو بھول کر شریعت کے احکام توڑتے ہیں۔آپ نے بجائے پانچ کے اس دن چھ نمازیں مقرر