خطبات محمود (جلد 1) — Page 110
۱۱۰ اللہ تعالی کی رضا جوئی کی فکر کریں اور دنیا کو ہدایت دینے کے لئے جدوجہد کریں۔ جب تک ساری دنیا ہدایت نہ پالے سانس نہ لیں۔ کوئی کہے مجھے کیا فائدہ ہے کہ دنیا ہدایت پائے۔ تو میں کہتا ہوں اگر کوئی فائدہ نہ ہو تو یہ کیا کم ہے کہ ہم تمام دنیا کو ہدایت پر جمع کئے بغیر عید کو ہی نہیں دیکھ سکتے۔ جب تک لوگوں کے دکھوں کو دور نہ کریں اللہ تعالیٰ عید نہیں دیا کرتا۔ اگر ایک بچہ مر رہا ہو اور اس کے بچنے کی امید ہو۔ لوگ خوش نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب تک امید ہے عید نہیں منا سکتے۔ ہاں اگر ان سے بالکل مایوسی ہو جائے تو پھر لوگ سمجھ جائیں گے ان کے قلوب پر مہر لگ جائے تو گویا وہ مر جاتے ہیں تو مرنے والوں کے بعد بھی عید ہو سکتی ہے۔ اگر ہم عید چاہتے ہیں تو دنیا میں ہدایت پھیلائیں، خدا سے جو دور ہیں ان کو قریب کریں، سچے راستہ پر لائیں، ورنہ ہمارے لئے عید نہیں۔ کچی عید خدا کے قرب میں ہے اور خدا کا قرب خدا کے بندوں کو اس کے قریب کرنے سے ملتا ہے۔ اس مقصد میں کامیابی کے بعد جو سورج چڑھتا ہے وہ غروب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ ہمارے مقاصد پورے کرے ۔ ہم حقیقی عید کو دیکھیں جس کے لئے یہ عید میں بطور نشان مقرر ہوئی ہیں۔ (الفضل ۲۸۔ مئی ۱۹۲۳ء) لے ہندوؤں کا ایک مشہور تہوار جو کا تک کی پندرہ تاریخ یعنی ۳۱۔ اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس موقع پر لچھمی دیوی یعنی دولت کی دیوی کی پوجا کی جاتی ہے اور اس موقع پر چراغاں کیا جاتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ جلد ۲ صفحہ ۲۷۸ زیر لفظ دوالی۔ مطبوعہ رفاہ عام پریس لاہور) ہندوؤں کا ایک مشہور تہوار جو ہر سال پھاگن (فروری مارچ کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ لکڑیوں یا اُپلوں کے ڈھیروں میں آگ لگاتے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں اور خوب راگ رنگ مناتے ہیں۔ (فرہنگ آصفیہ: جلد ۴ صفحہ ۷۵۶ زیر لفظ ہوئی۔ مطبوعہ رفاہ عام پریس لاہور ) جامع ترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء في الطعام يضع لاهل الميت البقرة : ۱۸۴ السجدة : 18 صحیح بخاری کتاب التفسير سورة التنزيل السجدة فلا تعلم نفس ما أخفى