خطبات محمود (جلد 1) — Page 96
۹۶ راتوں میں ضرور اٹھ سکتے ہیں۔تم نے یہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا اور ایک حد تک تکلیف کے برداشت کرنے کی عادت بھی تمہیں ہو گئی ہے اس سے سبق لینا چاہئے اور دینی خدمات کو زیادہ جوش کے ساتھ بجا لانا چاہئے اور تکالیف اور مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئے۔دیکھو کسی کام کا ارادہ کرنے اور نہ کرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔چونکہ رمضان کے دنوں میں نیت کی گئی تھی کہ ہم بھوک پیاس کو برداشت کریں گے اس لئے پندرہ پندرہ گھنٹے کی بھوک پیاس برداشت کی گئی مگر دوسرے دنوں میں جب کہ یہ نیت نہیں ہوتی دو گھنٹے بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔تو نیت اور ارادہ سے بڑے سے بڑا کام بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح اب نیت اور ارادہ کو پختہ کر لو کہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے غفلت نہیں کریں گے اور دین کے معاملہ میں کسی تکلیف کو تکلیف نہیں خیال کریں گے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تھا۔۰۶ قرآن کریم میں تو اس طرح ذکر نہیں ہے قصوں میں آتا ہے کہ ان کے لئے آگ جلائی گئی تھی جس میں ڈال دیئے گئے مگر وہ آگ ان کے لئے باغ ہو گئی۔کہ لیکن دین کے لئے آگ میں پڑنا بہشت میں داخل ہونا ہوتا ہے اور دین کے لئے کوئی تکلیف تکلیف نہیں ہو سکتی۔خدا کے لئے آگ میں پڑنا جنت میں داخل ہونا ہوتا ہے اور خدا کے لئے مرنا در حقیقت زندہ ہوتا ہے۔رسول کریم میں تم سے صحابہ نے پوچھا کہ اگر دین کے لئے لڑتے ہوئے مر گئے تو کیا ہو گا فرمایا کہ جنت ملے گی۔وہ احد کے موقع پر جب کہ بعض صحابہ سر ڈالے بیٹھے تھے اور انہی میں حضرت عمرہ بھی تھے تو ایک صحابی نے پوچھا جو کھجوریں کھا رہے تھے کہ آپ اس طرح کیوں بیٹھے ہیں حضرت عمر نے کہا کہ آنحضرت میں شہید ہو گئے ہیں ان صحابی نے کہا اگر رسول کریم میلی لی اور شہید ہو گئے ہیں تو ہم کیوں بیٹھے ہیں چلو ہم بھی چلیں یہ کہہ کر کھجوریں پھینک کر میدان جنگ میں چلے گئے اور اس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے اور جب ان کی لاش ملی اور ان کے جسم کے زخم شمار کئے گئے تو ستر زخم تھے۔10۔پس جو لوگ دین کی خدمت کی نیت اور ارادہ کر لیتے ہیں ان کی موت ان کے لئے باغ ہو جاتی ہے۔ایک عورت جو اپنے بچہ کی صحت اور اس کی تربیت کے خیال سے سردی کی رات کو اس لئے جاگتی ہے کہ بچہ کہیں پیشاب نہ کر دے اور اس کا بستر بھیگ جائے جس سے اس کو تکلیف ہو۔یا اس کے جسم کو کپڑے سے ڈھانکتی ہے کہ سردی نہ لگ جائے۔اگر کوئی شخص اس کو نصیحت کرے کہ بی بی کیوں تکلیف اٹھاتی ہے سو جا تو وہ اس خیر خواہی کی نصیحت پر بجائے